Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

ٹلی:ایران کے لیے اسلحہ اسمگلنگ کی کوشش میں 7افرادگرفتار

Down with terrorist states of Iran and Pakistan!


گرفتار افراد میں ایران کے دوخفیہ ایجنٹ شامل،دومفرور

میلان.ایجنسیاں

اٹلی میں پولیس نے ایران کے لیے اسلحہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سات افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں دو خفیہ ایرانی ایجنٹ بتائے جاتے ہیں.

اطالوی پولیس بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ گرفتار کیے گیے پانچ مشتبہ افراد اطالوی شہری ہیں اور دو کی تلاش جاری ہے.ان افراد کو متعدد شہروں سے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے.پولیس نے ابتدائی طور پر نو افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی تھی لیکن بعد میں کہا ہے کہ دوایرانیوں کے وارنٹ گرفتاری پر ابھی عمل درآمد نہیں کیا جاسکا.

اطالوی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''گرفتارافراد میں ایک ایرانی صحافی بھی شامل ہے جو روم کی غیر ملکی پریس کلب کا رکن ہے .تمام چاروں ایرانیوں کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کی خفیہ سروسز کے ایجنٹ ہیں.ان می سے دوابھی تک مفرور ہیں''.

پولیس کے مطابق ان مشتبہ افراد نے مشرقی یورپ سے ٹریسر گولیوں،دھماکا خیز مواداور آتشگیر بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کوایران برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی.اس گروہ نے گذشتہ جون میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا اور ایک گروہ کا اٹلی سے ایک تیسرے ملک کے ذریعے ایران کو اسلحہ برآمد کرنے کا پتا چلا تھا.

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانیہ ،سوئٹزرلینڈ اور رومانیہ کے حکام کے ساتھ مل کرکام کیا ہے اور جرمنی کے تیارکردہ فوجی استعمال کے لیے آپٹیکل گئیر اور خصوصی جیکٹس بھی پکڑی ہیں جو ایران کو بھیجی جانا تھیں.

گرفتارکیے گیے اطالویوں میں شمالی ٹرین سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل بھی شامل ہیں جو اسلحہ درآمد اور برآمدکرنے کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی چلارہے تھے ایک اورگرفتاراطالوی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ عام طور پر سوئٹزرلینڈ میں رہتا ہے.

واضح رہے کہ اٹلی ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن وزیراعظم سلویوبرلسکونی کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات اورایران کے جوہری تنازعے پرمغربی ممالک کے سفارتی دباٶ کی وجہ سے اٹلی کی ایران میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے.ایران کو اسلحے کی برآمد کے لیے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ برلسکونی متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف سخت تجارتی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں.

No comments:

Post a Comment