
کراچی میں سماجی رہنما کا قتل
کراچی پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے
کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف سماجی رہنماء نثار بلوچ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
سولجر بازار تھانہ کے انسپکٹر میاں خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے پاک کالونی کے قریب نثار بلوچ پر فائرنگ کی اور اس دوران ان کے سر میں دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور اس کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقتول سماجی رہنماء کے بہنوئی نورالدین نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔
نثار بلوچ کے چچازاد بھائی اور بہنوئی نورالدین نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ سنیچر کی صبح نثار بلوچ نے ان کے ساتھ ناشتہ کرنے کےبعد کہا کہ وہ اخبار لینے جا رہے ہیں اور بعد میں انہیں بتایا گیا کہ نثار بلوچ کو گولیاں ماردی گئی ہیں۔
نثار بلوچ کراچی میں غیرسرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کے سربراہ تھے اور کراچی میں پبلک پارکوں اور کھلی جگہوں کو بلڈرز سے بچانے اور ماحولیات کے لیے کام رکنے والی تنظیم ’شہری‘ کے ایک سرگرم رکن بھی تھے۔
خیال رہے کہ انہوں نے ایک دن قبل کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ گٹر باغیچہ کو رہائشی کالونی میں تبدیل کرنے اور پبلک پارک کی حدود کےاندر تعمیراتی کام کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے بعض بااثر گروہ ان کے خلاف ہیں اور وہ انہیں جان سے مارنا چاہتے ہیں۔
’شہری‘ کی رہنماء عنبر علی بھائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’نثار بلوچ گٹر باغیچہ پر قبضے کے خلاف مہم برسوں سے مہم چلا رہے تھے۔وہ بہادر شخص تھے اور ان کے قتل میں وہ گروہ ملوث ہیں جو انہیں دھمکیاں دے رہے تھے۔
عنبر کے مطابق گٹر باغیچہ کا بقیہ حصہ چار سو اسی ایکڑ پرمحیط ہے اور اس اراضی پر بھی بلڈر مافیا قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول ’نثار بلوچ ایک طویل عرصےسےگٹر باغیچہ کو بچانے کی مہم میں شریک تھے اور ان کی تنظیم نثار بلوچ کے قتل کے بعد خاموشی سے نہیں بیٹھی گی اور اپنی مہم جاری رکھے گی‘۔
BBC URDU
کراچی پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے
کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف سماجی رہنماء نثار بلوچ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
سولجر بازار تھانہ کے انسپکٹر میاں خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے پاک کالونی کے قریب نثار بلوچ پر فائرنگ کی اور اس دوران ان کے سر میں دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور اس کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقتول سماجی رہنماء کے بہنوئی نورالدین نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔
نثار بلوچ کے چچازاد بھائی اور بہنوئی نورالدین نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ سنیچر کی صبح نثار بلوچ نے ان کے ساتھ ناشتہ کرنے کےبعد کہا کہ وہ اخبار لینے جا رہے ہیں اور بعد میں انہیں بتایا گیا کہ نثار بلوچ کو گولیاں ماردی گئی ہیں۔
نثار بلوچ کراچی میں غیرسرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کے سربراہ تھے اور کراچی میں پبلک پارکوں اور کھلی جگہوں کو بلڈرز سے بچانے اور ماحولیات کے لیے کام رکنے والی تنظیم ’شہری‘ کے ایک سرگرم رکن بھی تھے۔
خیال رہے کہ انہوں نے ایک دن قبل کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ گٹر باغیچہ کو رہائشی کالونی میں تبدیل کرنے اور پبلک پارک کی حدود کےاندر تعمیراتی کام کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے بعض بااثر گروہ ان کے خلاف ہیں اور وہ انہیں جان سے مارنا چاہتے ہیں۔
’شہری‘ کی رہنماء عنبر علی بھائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’نثار بلوچ گٹر باغیچہ پر قبضے کے خلاف مہم برسوں سے مہم چلا رہے تھے۔وہ بہادر شخص تھے اور ان کے قتل میں وہ گروہ ملوث ہیں جو انہیں دھمکیاں دے رہے تھے۔
عنبر کے مطابق گٹر باغیچہ کا بقیہ حصہ چار سو اسی ایکڑ پرمحیط ہے اور اس اراضی پر بھی بلڈر مافیا قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول ’نثار بلوچ ایک طویل عرصےسےگٹر باغیچہ کو بچانے کی مہم میں شریک تھے اور ان کی تنظیم نثار بلوچ کے قتل کے بعد خاموشی سے نہیں بیٹھی گی اور اپنی مہم جاری رکھے گی‘۔
BBC URDU
No comments:
Post a Comment