Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

11ستمبر:پانچ منصوبہ سازوں کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ


خالد شیخ محمد اوران کے چارساتھیوں کونیویارک منتقل کردیا جائے گا:اٹارنی جنرل
11ستمبر:پانچ منصوبہ سازوں کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ


واشنگٹن.العربیہ،ایجنسیاں

امریکا گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ اور دعوے دار خالد شیخ محمد اور ان کے چارساتھیوں کے خلاف ایک سویلین فیڈرل کورٹ میں مقدمہ چلائے گا اور انہیں مقدمے کی سماعت کے لئے گوانتانامو بے کے حراستی مرکزسے نیویارک منتقل کردیا جائے گا.

اس بات کا اعلان امریکا کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے جمعہ کے روز ایک نیوزکانفرنس کے دوران کیا ہے.انہوں نے کہا کہ امریکا ملزموں کوسزائے موت سمیت زیادہ سے زیادہ سزائیں دلوانے کی کوشش کرے گا.انہوں نے بتایا کہ گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں قید پانچ دیگرمشتبہ ملزموں کے خلاف سابق بش انتظامیہ کے قائم کردہ ملٹری کمیشنزمیں مقدمات چلائے جائیں گے.

ایرک ہولڈر نے کہا:'' وہ آج اعلان کررہے ہیں کہ محکمہ انصاف نائن الیون کے حملوں کی سازش کرنے والے پانچ افراد کے خلاف فیڈرل کورٹ میں استغاثے کی پیروی کرے گا''.

اس سے پہلے نائن الیون کے مشتبہ ملزموں خالد شیخ محمد اور ان کے چارساتھیوں کے خلاف کیوبا میں واقع امریکی بحری اڈے گوانتانامو بے میں قائم فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جاتا رہا ہے لیکن امریکی صدر براک اوباما نے اس بدنام زمانہ حراستی مرکزکوآئندہ جنوری کے وسط تک بند کرنے کا اعلان کررکھا ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے الزام میں وہاں قید بعض افراد کے مقدمات امریکا کی عام فوجداری عدالتوں میں منتقل کئے جارہے ہیں.

امریکی اٹارنی جنرل کا کہناتھا کہ یمن میں سن 2000ء امریکی بحری بیڑے یوایس ایس کول پر بم دھماکے کے مبینہ ملزم عبدالرحیم النشیری سمیت گوانتا نامو بے میں قید پانچ دوسرے مشتبہ ملزموں کے خلاف نئے تشکیل شدہ فوجی کمیشن میں مقدمات چلائے جائیں گے.

البتہ ایرک ہولڈر نے یہ واضح نہیں کیا کہ النشیری اور دوسرے چارافراد کےخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لئے انہیں کہاں بھیجا جائے گا.تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں ساٶتھ کیرولائنا میں ایک فوجی اڈے پر بھیجا جاسکتا ہے جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے نئی خصوصی فوجی عدالت قائم کرنے کی تیاریاں کی جارہی تھیں.

خالد شیخ محمد اور ان کے چارساتھیوں کے خلاف نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں ضلع جنوبی کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے گا.اس عدالت میں حالیہ عشروں کے دوران دہشت گردی کے متعدد مشتبہ ملزموں کے خلاف مقدمات چلائے جاچکے ہیں اور امریکی اٹارنی جنرل کے بہ قول انہیں انصاف فراہم کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا جائے گا.

خالد شیخ محمد اوران کے چارساتھیوں ولید بن عطش،رمزی بن الشبیہ،مصطفیٰ احمد الہاسوی اورعلی عبدالعزیزعلی پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا.ان حملوں میں 2973افراد مارے گئے تھے.تاہم ابھی تک ان پر باضابطہ فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ایک سول عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے میں کئی ہفتے کی تاخیر ہوسکتی ہے.

خالد شیخ محمد نے امریکی حکام کی تفتیش کے دوران مبینہ طوراعتراف کیا تھا کہ وہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے اور انہوں نے ہی 1996ء میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو اس جہازوں کے استعمال سے امریکا پر حملوں کا تصور پیش کیا تھا.انہوں نے حملوں کے لئے ہائی جیکروں کو افغانستان میں تربیت دی تھی اوراس تمام عمل کی نگرانی کی تھی.

امریکا کے بدنام زمانہ حراستی مرکزگوانتاناموبے میں قیدان پانچوں مشتبہ ملزموں نے مارچ 2009ء میں امریکی فوجی ٹرائبیونل میں ایک دستاویز جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے نائن الیون کے حملوں پر فخرکا اظہار کیا تھا اور انہوں نے ان حملوں میں قریباً تین ہزار افراد کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی.

اس دستاویزمیں''ان پانچوں زیرحراست افراد کونائن الیون حملوں کی شوریٰ کونسل قراردیا گیا تھا اوران کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کارروائی اللہ کی رضا کے لئے کی تھی''. ملزمان کا کہناتھا کہ ''ہمارے لئے یہ حملے کوئی الزام نہیں،بلکہ ایک اعزازکی بات ہے کیونکہ انہیں ہم نے بڑے فخراوراعزازکےساتھ انجام دیاتھا''.

گوانتا ناموبے میں قائم ٹرائبیونل کے فوجی جج نے الگ سے بھی ایک دستاویز جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھاکہ ملزمان کی دستاویزکا عنوان :''حکومت کے نو الزمات پراسلامی ردعمل''تھا.نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالدشیخ محمد سمیت پانچوں افرادنے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی پیروی خود کرنا چاہتے ہیں.

No comments:

Post a Comment