Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

ترک فوج اور کرد باغیوں میں جھڑپیں، 13 افراد ہلاک --- عراق میں کرد باغیوں کی موجودگی پر ترک فوج کے سربراہ کا انتباہ


کردباغی گذشتہ 26 سال سے دیاربکیرکے علاقے میں علاحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں۔فائل

دیاربکیر۔ایجنسیاں


ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سرکاری فوج اور کرد باغیوں کے درمیان لڑائی میں تین فوجی اور دس باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرد باغیوں نے رات ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا تھا جس کے بعد جھڑپ شروع ہو گئی۔ عراق سرحد کے قریب صوبہ حقاری کے ضلع سمدنلی میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور فوج کے درمیان لڑائی سوموار کی رات شروع ہوئی اور اس کے بعد ترک فوج نے شمالی عراق کی سرحد کے آس پاس کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ لڑائی میں تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

کردباغیوں نے جیل میں قید اپنے لیڈر عبداللہ اوکلان کی جانب سے مئی میں گذشتہ چودہ ماہ سے جاری جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد جون کے آغاز سے مسلح افواج پر حملے شروع کر رکھے ہیں اور ان کے حملوں میں اب تک اسی ترک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2009ء میں کرد باغیوں کے ساتھ جھڑپوں اور ان کے حملوں میں اس سے کم تعداد میں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ترک فوج عراق سرحد کے آس پاس کے علاقوں میں کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور وہ مزاحمت کاروں کے حملوں کے جواب میں شمالی عراق میں بھی کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتی رہتی ہے جہاں ہزاروں کرد باغی پہاڑی علاقوں میں مقیم ہیں۔


تعلقات پر منفی اثرات

ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل ایلکرباس بگ نے خبردار کیا ہے کہ پی کے کے، کے باغیوں کی شمالی عراق میں موجودگی سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو اس سے ترکی اور امریکا کے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اسٹار ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''اب وقت آ گیا ہے کہ شمالی عراق میں موجود لوگ، ادارے، ریاستیں اور افواج وہ کچھ کریں، جو مناسب ہے''۔ان کا اشارہ عراق اور امریکا کی کردباغیوں کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی جانب تھا۔

ترکی ماضی میں عراقی کردوں پر پی کے کےسے تعلق رکھنے والے باغیوں سے رواداری پر مبنی سلوک کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن اب وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے عراقی کردوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکا بھی کرد باغیوں کی شمالی عراق میں نقل وحرکت کے بارے میں اپنے نیٹو اتحادی ترکی کو انٹیلی جنس اطلاعات فراہم کرتا رہتا ہے جن کی بنیاد پر ترک طیارے کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن اب ترکی امریکا اور عراق سے پی کے کے،کے خلاف کارروائی کے لیے زیادہ تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ترک فوج کے سربراہ کے ایک اندازے کے مطابق ترکی کے جنوب مشرقی علاقے کے پہاڑی علاقوں اور شمالی عراق میں موجود کرد باغیوں کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے جبکہ ماضی میں ان کی تعداد دس ہزار تک بیان کی جاتی رہی ہے۔

ترکی کے کرد آبادی والے جنوب مشرقی علاقے میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک مرتبہ پھر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ترک فوج نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ پی کے کے اپنے حملوں میں شدت لا سکتی ہے اور ان کا دائرہ کار بڑھا سکتی ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران کرد باغیوں اور ترک فوج کے درمیان لڑائی میں شدت سے ترک حکومت کی گذشتہ چھبیس سے جاری تنازعے کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں بھی ماند پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔

کرد باغی ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں 1984ء سے اپنے الگ وطن کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔اس لڑائی میں اب تک پینتالیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ امریکا، یورپی یونین اور دنیا کے بیشتر ممالک نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

http://www.alarabiya.net/articles/2010/07/06/113180.html

No comments:

Post a Comment