تہران،اسلام آباد.العربیہ.نیٹ،ایجنسیاں

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کی اطلاع کے مطابق جنوب مشرقی صوبہ سیستان ،بلوچستان کے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع علاقے پشین میں اتوار کے روز پاسداران انقلاب پرخود کش بم حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بیالیس ہو گئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں.
بم حملے میں جاں بحق ہونے والے سات سنئیر کمانڈروں میں پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ نور علی شوستری اور پاسداران کے سیستان، بلوچستان میں کمانڈر رجب علی محمد زادہ، امیر المومنین یونٹ کے کمانڈر اور بعض مقامی عمائدین بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے ایران کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ دہشت گرد تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی نے صوبہ بلوچستان کے کسی علاقے میں پناہ لے رکھی ہے.دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اتوار کو ایک انٹرویو میں ایرانی صوبہ سیستان، بلوچستان میں ایرانی انقلابی گارڈز پرخود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کے لئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں ایران میں دہشت گردی کے ہولناک واقعہ کی شدید مذمت کی ہے. پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی ایران میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لئے ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا.
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی کے مطابق وزارت خارجہ نے تہران میں پاکستان کے ایک سنئیر سفارتکار کو طلب کر کے ان سے کہا ہے کہ حملہ کرنے والے افراد کے پاکستان سے ایران میں داخل ہونے کے ثبوت موجود ہیں.اس موقع پر پاکستانی سفارتکار نے تہران کو یقین دلایا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کرے گا.
واپس اوپر
ایرانی صدر کا الزام
پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں کے دوران دو طرفہ تعلقات بہتر رہے ہیں اور دونوں ممالک گیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے بھی بات چیت کر رہے ہیں.
لیکن ایران ماضی میں بھی پاکستان پر یہ الزام عاید کرچکا ہے کہ اس کے ہاں سنی مزاحمت کار گروپ جند اللہ کے ارکان نے پناہ لے رکھی ہے. ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ جند اللہ نامی سنی باغی گروپ کا اس حملے میں ہاتھ ہو سکتا ہے. بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس گروپ کے مبینہ طور پر پاکستانی طالبان سے بھی روابط ہیں.لیکن اس گروپ نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی.
انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے پریس ٹی وی کے ایک پیش کار نے حکام اور ماہرین کے حوالے سے اس بم حملے کا جنداللہ گروپ کو براہ راست مورد الزام ٹھہرایا ہے. ایرانی بلوچوں کے سنی مزاحمت کاروں پر مشتمل اس گروپ پر ماضی میں بھی اس علاقے میں مختلف حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے.
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے الزام لگایا ہے کہ انقلابی گارڈز پر خودکش حملہ کرنیوالوں کو پاکستانی سکیورٹی ایجنٹس کی مدد حاصل تھی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق صدر احمدی نژاد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان حملہ آوروں کی گرفتاری میں ایران کی مدد کرےاورخود کش حملہ آوروں کے مدد گاروں کو تہران کے حوالے کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ان ملزموں کو حوالے کرنے کا مطالبہ تہران کا حق ہے اس لیے مطلوب افرادکی گرفتاری کے لیے وقت ضائع نہ کیا جائے۔

دہشت گرد تنظیم جند اللہ کا سربراہ پاکستان میں نہیں:ترجمان دفتر خارجہ
ایران: بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 42، پاکستان کی کسی تعلق کی تردید
پاکستان نے ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان، بلوچستان میں گذشتہ روز خود کش بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور ایرانی صدر کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ''بعض پاکستانی سکیورٹی ایجنٹوں نے بم حملہ کرنے والوں سے تعاون کیا ہے''.ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کی اطلاع کے مطابق جنوب مشرقی صوبہ سیستان ،بلوچستان کے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع علاقے پشین میں اتوار کے روز پاسداران انقلاب پرخود کش بم حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بیالیس ہو گئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں.
بم حملے میں جاں بحق ہونے والے سات سنئیر کمانڈروں میں پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ نور علی شوستری اور پاسداران کے سیستان، بلوچستان میں کمانڈر رجب علی محمد زادہ، امیر المومنین یونٹ کے کمانڈر اور بعض مقامی عمائدین بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے ایران کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ دہشت گرد تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی نے صوبہ بلوچستان کے کسی علاقے میں پناہ لے رکھی ہے.دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اتوار کو ایک انٹرویو میں ایرانی صوبہ سیستان، بلوچستان میں ایرانی انقلابی گارڈز پرخود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کے لئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں ایران میں دہشت گردی کے ہولناک واقعہ کی شدید مذمت کی ہے. پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی ایران میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لئے ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا.
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی کے مطابق وزارت خارجہ نے تہران میں پاکستان کے ایک سنئیر سفارتکار کو طلب کر کے ان سے کہا ہے کہ حملہ کرنے والے افراد کے پاکستان سے ایران میں داخل ہونے کے ثبوت موجود ہیں.اس موقع پر پاکستانی سفارتکار نے تہران کو یقین دلایا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کرے گا.
واپس اوپر
ایرانی صدر کا الزام
پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں کے دوران دو طرفہ تعلقات بہتر رہے ہیں اور دونوں ممالک گیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے بھی بات چیت کر رہے ہیں.
لیکن ایران ماضی میں بھی پاکستان پر یہ الزام عاید کرچکا ہے کہ اس کے ہاں سنی مزاحمت کار گروپ جند اللہ کے ارکان نے پناہ لے رکھی ہے. ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ جند اللہ نامی سنی باغی گروپ کا اس حملے میں ہاتھ ہو سکتا ہے. بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس گروپ کے مبینہ طور پر پاکستانی طالبان سے بھی روابط ہیں.لیکن اس گروپ نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی.
انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے پریس ٹی وی کے ایک پیش کار نے حکام اور ماہرین کے حوالے سے اس بم حملے کا جنداللہ گروپ کو براہ راست مورد الزام ٹھہرایا ہے. ایرانی بلوچوں کے سنی مزاحمت کاروں پر مشتمل اس گروپ پر ماضی میں بھی اس علاقے میں مختلف حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے.
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے الزام لگایا ہے کہ انقلابی گارڈز پر خودکش حملہ کرنیوالوں کو پاکستانی سکیورٹی ایجنٹس کی مدد حاصل تھی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق صدر احمدی نژاد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان حملہ آوروں کی گرفتاری میں ایران کی مدد کرےاورخود کش حملہ آوروں کے مدد گاروں کو تہران کے حوالے کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ان ملزموں کو حوالے کرنے کا مطالبہ تہران کا حق ہے اس لیے مطلوب افرادکی گرفتاری کے لیے وقت ضائع نہ کیا جائے۔
No comments:
Post a Comment