
ایران کو مطلوب باغی سنی رہ نما پاکستان میں نہیں: دفتر خارجہ
جنداللہ کے خلاف کارروائی کے لئے ایرانی وزیر کا دورہ پاکستان
تہران ۔ ایجنسیاں
ایران کے وزیر داخلہ مصطفی نجار جمعہ کے روز پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ ایران کے سرحدی علاقوں میں باغی سنی تنظیم جند اللہ کے خلاف کریک ڈاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یاد رہے کہ اسی تنظیم نے گذشتہ دنوں صوبہ سیستان بلوچستان کے علاقے پشین میں پاسداران انقلاب اور قبائلی سرداروں کے ایک جرگے میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اعلی فوجی قیادت سمیت ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق مسٹر نجار اسلام آباد جانے والے ایران ایک اعلی اختیاراتی سیکیورٹی وفد کی قیادت کریں گے تاکہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصبوں اور دوسرے اعلی حکام کے ساتھ جند اللہ کی بیخ کنی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
تہران میں وزارت داخلہ کے ترجمان مہدی آزار مکان نے بتایا کہ جمعہ کے روز شروع ہونے والے دورے میں ایرانی وزیر داخلہ اپنے پاکستانی ہم منصب رحمان ملک کے ساتھ سیستان بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی کے مضمرات پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ مبینہ طور پر پاکستان کے سرحدی علاقوں سے ایران میں ایسی کارروائیاں کرنے والے عناصر کا قلع قمع کیا جا سکے۔
ایران نے اٹھارہ اکتوبر کو جند اللہ کی طرف سے کی جانے والی دہشت گرد کارروائی کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے اس الزام کی پہلے ہی سختی سے تردید کر چکا ہے۔
تہران الزام عائد کرتا ہے کہ جند اللہ کے سربراہ عبد المالک ریگی پاکستان میں موجود ہے اور ایران اس کی حوالگی کا مسلسل مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔
.
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترحمان عبد الباسط، ایران کو مطلوب باغی سنی تنظیم کے سربراہ عبد المالک کی اپنے ملک میں موجودگی سے انکار کیا ہے۔
پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے "ہمیں ریگی کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔"
جند اللہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کی پنجائیت میں حملے کے بعد تنظیم نے انٹرنیٹ پر ایک بیان میں کہا تھا "ہم نے یہ کارروائی ایک عرصے سے ظلم کی چکی میں پسنے والے بلوچوں کے خون کا بدلہ لینے کی خاطر کی ہے۔"
ایرانی اور افغانستان سرحد پر واقع پاکستان کا جنوبی مغربی صوبہ بلوچستان عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ شیعہ۔سنی فرقہ وارانہ فسادات اور بلوچ باغیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
No comments:
Post a Comment