Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

ہمے آجوئی ( آزادی ) چی انت۔۔۔؟


تحریر : جوان بلوچ

آزادی کے متعلق بعض لوگ بہت کچھ کہتے اتنا بھی کہنے سے نہیں چوکتے کہ آزادی سے مراد تمام انسانی ضروریات و تقدیر یا قسمت سے چھٹکارا پانا ہے ۔ ہمیں چیزوں کو محض (fantasize) و اُن کی محض خیالی صورت گری و تشریح کرنے کے بجائے اُن کی حقیقی و ضاحت کرنا چاہیے ۔
آزادی اپنے لفظی معنوں میں جبر کی متضاد ہے یعنی ایک ایسی صورتحال کہ جہاں ہمیں کسی قسم کے جبر کی وجہ سے غلامی و قید کا احساس نہ ہو ۔ یہ جبر سے دو چار ہوئے کسی انسان کو 
اُس حالت سے نکالتی اقرار کا نام ہے ۔ یہ ایک طرح کا بری الزمہ (exemption) ہے جو راحت بخشتی ہے ایک من مانے حکومت کرنے والے ، جبر کرنے والی طاقت ، مطلق العنانی اور خود سر مستبداد تسلط و اقتدار یا اختیار سے ۔
اسے ہم ایک طاقت کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں جو انسان میں خود اختیاری و خود فیصلے و طے کرنے کے عمل میں کار گر ثابت ہو سکتی ہے ۔ اس قوتِ ارادی و اپنی خواہشات کی تکمیل کے سلسلے میں درکار قوت رکھنے کی حالت و صلاحیت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ دراصل آزادی ، انسانی قابلیت کا وہ پیمانہ ہے کہ جس میں وہ بنا کسی رکاوٹ و جبر یا بنا کسی استحصالی طاقت کے قابو میں رہتے ، اپنے معاملات کو خود طے کرنے کی قوت کو استعمال کرنے کا اختیار ، اپنی خواہشات کے مطابق رکھے ۔
Holmes اس لفظ کو بیان کرتے لکھتاہے کہ : ’’لوگوں و تمام چیزوں کے بیچ سخت سماجی تفریق جیسے ماحول میں ، آزادی سب سے بیش قیمتی رعایت ہے ‘‘۔
Locke اس تعریف کی مزید وضاحت کرتے دکھائی دیتے ہیں ، اُن کے مطابق ’’ اس نعمت یا رعایت سے ہمارا وجود اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہم کسی عمل کو کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود اپنی خواہشات و انتخاب سے کرنے لگیں ۔‘‘
Holmesاور Locke کی بیان کردہ تعریفوں سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں ملنے والی آزادی کا مطلب اس بات کی تصدیق ہے کہ معاشرے میں رہتے ہر فرد کو یہ تحفظ حاصل ہے کہ وہ بنا خود پہ اثر انداز ہوئے کسی بھی طاقت ، اکثریت ، رسم و رواج یا رائے کے ، اپنی سوچ کے مطابق اپنے معاملات سے متعلق اپنے فیصلے خود کرے اور چونکہ ہر معاشرہ اپنی مناسبت سے ملنے والی آزادی کے تحت ہی اپنے فیصلوں کو خود کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس لئے اس لفظ کی وضاحت بھی مختلف معاشرے کیلئے مختلف ہو سکتی ہے ۔ ہم اس بات کا احساس شخصی آزادی کے تحت ملنے والی آزادی کیلئے رائج کردہ مختلف قوانین کے مطالعے سے کر سکتے ہیں مثلاً سنگا پور میں صفائی و حفظانِ صحت کے معاملے میں اس حد تک سختی برتی جاتی ہے کہ وہاں انسان کے شخصی آزادی کو اس زمرے میں اس حد تک محدود کیا گیا ہے کہ کسی کو چیونگ گم کی فروخت و حتیٰ کہ کھانے کی بھی اجازت نہیں ۔ وہاں چیونگ گم کھانا قانوناً ممنوعہ ہے جس پر با قاعدہ سے جرمانے کی سزائیں متعین ہیں ۔ صرف یہی نہیں بعض جگہ ایک ہی ملک کے مختلف حصوں میں شخصی آزادی کے مختلف قوانین ہیں مثلاً امریکہ کی ریاست Pennsylvania میں یہ قانون ہے کہ کوئی بھی Pennsylvanian مرد اپنی بیوی کے تحریری اجازت نامے کے بغیر شراب نہیں خرید سکتا ، جبکہ اسی قانون کا اطلاق دیگر امریکی ریاستوں میں نہیں ہوتا ۔
دراصل آزادی ایک مادی شے نہ ہونے کے باعث یہ لفظ بعض کیلئے سمجھ سے بالا تر اگر نہیں تو سمجھنے میں دقت آمیز ضرور ہے ۔ کیونکہ مادی اشیاء کو براہ راست دیکھا اگر نہیں تو محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے جبکہ نظریات و افکار براہ راست یا پھر بالاواسطہ بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں ۔ اس بات کی اصل وجہ یہ ہے کہ نظریات کو صحیح سمجھنے کا تعلق اُنکی ضروریات سے ہے ۔ آپ کسی نظریے کو اُسی انداز میں سمجھتے ہیں کہ جیسا اُسے بیان کیا جائے یا آپ جن حالات کے تحت اُنہیں سمجھیں ، مثلاً انسانی اقدار و اخلاقیات کے بیشتر موجودہ موضوع ، اُن وقتوں کے انسان کیلئے بے معنی تھیں کہ جب وہ غاروں میں رہتا تھا،اُن وقتوں کے انسان کی اپنی تقلید کردہ اخلاقیات ہوا کرتی تھیں ۔ جانوروں جیسی زندگی جینا انسان رشتوں کے فرق و خود اپنی ذات سے جڑی آج کی موجودہ ضروریات کا شائد تصور بھی نہیں کر پاتا ہو گا مگر آج وہ کرتا ہے کیونکہ آج کی اُس کی ضروریات جُدا ہیں اور انہی ضروریات کے سبب اسکے سوچنے کا انداز پہلے سے بدل چکا ہے اس لئے اُس نے نئی نظریات کی تقلید کی کہ جس کی مطابقت سے زندگی گزارتے آج اُس کا سب کچھ بدل چکا ہے ۔
ان مثالوں کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ نظریات کو بہتر اندازسے سمجھنے کا طریقہ اُن حالات سے جڑا ہے کہ جس میں اُن نظریات کی تقلید کی گئی ہو لہٰذا نظریہ آزادی کو بھی سمجھنے کیلئے اُن حالات کا مشاہدہ لازمی ہے جو اُسکی ضروریات کے سبب تقلید ہوئی ۔ ہم فرضی مثالوں سے ان حالات کا تجزیہ کر سکتے ہیں ۔ جیسے اگر ہم فرض کریں کہ ہمیں ایک ایسے زمین دوز خندق نما قید خانے میں ڈال دیا گیا ہو کہ جس سے انخلاء کے محض دو ہی راستے ہوں ۔ ایک راستہ وہ کہ جسے لوہے کی سلاخوں سے بند کیا گیا ہو اور دوسرا راستہ ہو کہ جسے ایک انتہائی مضبوط دروازے سے بند کرتے اُسکے باہر ایک درندہ صفت انسان کو مشین گن تھمائے ہم پہ پہرہ دینے کیلئے کھڑا کیا گیا ہو ۔ ہم سب ایسی حالت میں یقیناًخود کو مجموعی حوالوں سے ایک ہی کیفیت میں گھرتے محسوس کریں گے ۔ ایک ایسی کیفیت کہ جسکے تحت ہم چاہے ایک دوسرے پہ طنز ، طعنے ، مدد ، شوروغل یا حتیٰ کہ ہم ایک دوسرے پہ بظاہر ہنس بھی رہے ہوں مگر مجموعی حوالوں سے ہم سب مایوسی و اُداسی کی ملی جلی کیفیت میں خود کو پائیں گے ۔
در حقیقت یہی مایوسی و اُداسی کی وہ کیفیت ہے کہ جب ہم سب اپنی اپنی آزادی کی قدر کر چکے ہوتے ہیں اور خود کو نفسیاتی حوالوں سے ایسی کنگال حالت میں دیکھتے اس لا زوال نعمت کی حقیقی قیمت کو محسوس کرتے ہیں ۔ اس احساس کے یوں اچانک بیدار ہو جانے کی وجہ دراصل اُس حالت کا براہ است سامنا کرنے سے ہے جو ہم پر ’’مسلط ‘‘ کیا گیا ہے اور چونکہ جبر متضاد ہے آزادی کی اور چونکہ ایک کیفیت میں رہتے اسکی متضاد کیفیت کو سمجھا جا سکتا ہے لہٰذا آزادی کی حقیقی قدر بھی اُسی وقت محسوس ہونا شروع ہوتی ہے کہ جب اُسکی ضرورت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہو ۔
اسی طرح اگر کوئی آپ کی کنپٹی پہ بندوق تان لے تو بھی آپ ایسی افسردہ سے خیالات میں خود کو گھرا محسوس کریں گے اور ان دونوں فرضی حالتوں میں رہتے ، اگر کوئی چیز یا سوچ آپ کو اس حالت سے نجات و چھٹکارا دلانے کیلئے اُکساتا ہو دراصل اُسے ہی نظریہ آزادی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ جبر سے نکلتے کسی بھی طرح کی سوچ یا جبر کی کیفیت میں رہتے کیسی ایسے نظریے کے وجود کو محسوس کرنا جو آپ کو اس حالت سے نجات دلا سکتا ہو ، وہ نظریہ ممکنہ حد تک آزادی سے مماثل ہے ۔ مگر چونکہ نظریہ آزادی ایک وسیع المفہوم فلسفہ ہے جبکہ ہم یہاں محض چند چیزوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا مزاحمت ( عملی یا فکری ) کو بھی ہم نے آزادی کے مفہوم میں لے لیا ہے جبکہ مزاحمت محض آزادی حاصل کرنے کا ایک ادنا جُز ہے نہ کہ وہ کیفیت کہ جسے ہم ’’کامیاب مزاحمت ‘‘ کے حتمی نتائج کے حصول کے بعد محسوس کرتے ہیں ۔ یہاں لفظ ’’ کامیاب مزاحمت ‘‘ سے مطلب مزاحمتی سیاست کے ذریعے مجموعی حوالوں سے سماج میں کسی نظریے کیلئے آمدگی پیدا کرنا ، لوگوں کو اسکے لئے تیار کرنا اور اُنہیں مزاحمتی عمل میں شرکت کیلئے راضی رکھنے و قربانی کیلئے ، آمادہ کرنے کیساتھ ساتھ مجموعی حوالوں سے ہر مد میں اپنی مزاحمتی تحریک کو اسکی ممکنہ کامیابی کی حد تک لگاتار رواں دواں رکھنے کے بعد ، اُسکے حتمی نتائج کو اپنی امنگوں و خواہشات کے مماثل دیکھتے اپنی جدوجہد کی کامیابی و ناکامی کافیصلہ کرنا ہے ۔
بہر حال ہم موضوع بحث پہ چلتے دوبارہ اُن فرضی مثالوں کی طرف لوٹ چلتے ہیں کہ جہاں ہم اور آپ قیدی ہوتے ایک خندق نما قید خانے میں اپنی آزادی کی طویل جدوجہد کے بعد رہا ہو جائیں ۔ اب ملنے والی رہائی کے باعث ہم سب کی کیفیات جُدا ہونگی کیونکہ ہم سب نے اپنے قید کے لمحات کو اپنی ضروریات کی مناسبت سے مختلف زاویوں سے محسوس کیا ہے اسی لئے آزادی ملنے کے سبب ہم میں سے کوئی بھی نہ صرف اپنی کیفیات بلکہ کسی اور قیدی کی بھی کیفیات کو صحیح حوالوں سے بیان کرنے کا متحمل نہیں ۔ بالکل اسی طرح لفظ ’’ آزادی ‘‘ کو بھی کامل لفظوں (Absolute terms) میں کوئی بھی بیان نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ایک ایسی کیفیت ، رعایت ، اختیار ، قوت یا حالت ہے کہ جسے ہر انسان اپنی نوعیت سے محسوس کرتا ہے اور احساسات کے معاملے میں انسان اتنا خود شناس یا زبان شناس نہیں کہ وہ محض چندالفاظ کی ادائیگی سے کسی کی حقیقی کیفیات و احساسات کی ترجمانی کر سکے لہٰذا ان فرضی مثالوں کی توسط ہم محض اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ :
’’یہ نظریہ انسانی دماغ کی اُن کیفیات نے پیدا کیا کہ جس میں انسان نے اسکی ضرورت کو محسوس کیا یا یہ نظریہ جبر جیسے معاملات کی صحیح حالات کا تجزیہ و اسے بہتر انداز سے سمجھنے کے بعد اسکی تصحیح یا اسے تبدیل کرنے جیسی سوچ کی پیدا وار ہے ۔‘‘
اب تک ہم جتنی بحث کرتے آئے ہیں اُس کا مقصد لفظ آزادی کو محض خیال (precept) اور با ضابطہ نظریے (concept) کی طرز میں بیان کرنا تھا ۔ اب ہم اس نظریے کو سمجھنے میں پیش آنے والی دقتوں کے دیگر عومل کا جائزہ بھی لیں گے ۔ ان میں سے کچھ استحصالی قوتوں کے سبب ہے اور کچھ جبر میں مبتلا رہنے والی قوم ، طبقے یا انفرادی انسان کی خود اپنی نا سمجھی کے باعث ہے ۔ ان دونوں کو ہم ممکنہ حد تک بلوچ معاشرے کے پس منظر میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔


http://haqetawar.wordpress.com

No comments:

Post a Comment