Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

(لبريشن چارٹر آف بلوچستان )



(لبريشن چارٹر آف بلوچستان )
اخباری اطلاعات کے مطابق واجہ خيربيار اور اُسکی ٹيم نے کئی ایک سينر دوستوں و بلوچ دانشوروں کی معاونت سے ایک چارٹرآف لبريشن تيار کیا ہے جسميں اسی کے قریب شقيں موجود ہیں اس دستاويز کو آزاد بلوچستان کا روڈ ميپ کہتے ہیں جس ميں دو بنيادی پوانٹس کے بجاۓ باقی تمام پوانٹس پر گفت و شنيد و ردو بدل کی گنجائش رکھی گئ ہے وہ شقيں جن ميں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں وہ ہے بلوچستان کی آزادی پر مکمل يقين دوسرا اُس آزاد رياست ميں سب کے برابر کے حقوق يعنی ایک شخص ایک راۓ دہی کا حق تاکہ کل کوئی وہاں سلطان بنکر بيٹھنے کا خواب نہ ديکھے _ اخباری اطلاعات کيمطابق يہ چارٹر بابا مری صاحب کو بھی پيش کيا جاچکا ہے جسے آپ نے تا حال ایک بہترین دستاويز کہا ہے چارٹر ميں دو اہم نکات کو نہ چھيڑ نے اور باقی تمام نکات پر بحث و اُن ميں تبدیلی کے امکانات کو خارج از بحث نہیں کيا گيا ہے جو اس بات کی دليل ہے کہ اس ٹيم نے يہ دستاويز سائنسی بنيادوں پر مرتب کی ہے جن ميں وقت و حالات کے ساتھ بہتری لانے کی کوششوں کيلئے دروازہ کُشا دہ رکھا ہے اور اُنھيں اپنے دستاويز پر مکمل يقين ہے کہ اس ميں اُنھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ خلوص دل سے لکھا ہے خيربيار نے اسے ديکھنے اور اپنے تجاويز پيش کرنے کيلئے ابتدا واجہ براہمدغ بگٹی سے کی تاکہ وہ اسے پڈھ کر اپنی جماعت کی طرف سے راۓ ديں خان قلات کو ایک کاپی دی گئی تاکہ وہ بھی اگر چاہيں تو اپنے تجاويز سامنے لائيں تاکہ بيرون ملک قيادت بلوچوں کی قربانيوں کی تشریح ميں تقسیم کا شکار نہ ہو آپ نے ڈاکٹر مصطفیٖ بلوچ اور سمندر آسکانی کے زريعے يہ چارٹر بی اين پی کے سر براہ اختر مينگل کو پہنچائی ہے تاکہ آپ بھی اسے پڑھيں اور اپنے تجاويز چارٹر ٹیم کو بھيجيں اور کل کوئی يہ شکوہ نہ کرے کہ ان لوگوں نے اتنا اہم دستاويز سامنے لاتے ہوۓ بی اين پی جيسے اہم اسٹيک ہولڑر سے مشوہ تک نہیں کیا -حيربيار نے اس سلسلے ميں جو تين کام کيئے ہیں اُنکی تعریف نہ کرنا انتہائی زيادتی ہوگی پہلا يہ کہ بالا آخر آپ نے اس بات کو ممکن بنایا کہ بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے کوئی ٹھوس تحريری دستاويز لبريشن چارٹر کی شکل ميں پيش کیا جاسکے اس سے قبل چار دفعہ بلوچ اپنی نجات کيلئے اُٹھی اور آپريشنز کا سامنا کرچکی ہے لیکن قيادت ایسا عہد نامہ قوم کے سامنے لانے ميں ناکام ہوئی ہے کہ کل اگر وہ آزادی کا نعرہ کسی پاکستانی اسمبلی کی بھينٹ چھڑاۓ تو کوئی اُسکے سامنے يہ دستاويز لہرا کے کہے کہ آپ نے اس پروگرام کے تحت ہمیں اکھٹے ہونے کا کہا تھا لیکن جب ہم اکھٹے ہوۓ تو آپنے ہمیں پاکستانی حاکميت کو قانونی جواز فراہم کرنے ووٹ دينے کا کہا ؟ دوسرا احسن کام يہ کیا کہ آپ نے اس غلط تاثر کو رد کیا کہ آپ کے کچھ بلوچ رہنماوں سے رابطے کا فقدان زاتی نوعیت کے اختلافات کی بنياد پر ہے آپ نے جانے اور ٹيلفون کرنے ميں پہل کرکے يہ ثابت کیا کہ قومی مفاد اور نظرياتی سياست کے سامنے زاتی تعلقات کی کوئی اہميت نہیں تيسرا اور سب سے اہم يہ کام کيا سردار مينگل کی عزت افزائی کيلئے دو آدمیوں کو خاص طور پر يورپ سے روانہ کيا گیا حالانکہ يہ کام ايميل کے زريعے بھی کی جاسکتی لیکن آپ نے اپنے آدمی بيھج کے يہ سعی کی کہ ہم اس دستاويز کو کتنا اہم سمجھتے ہیں اور اسکے پيش کرنے بھی ہر باريکی کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ کل کوئی يہ نہ کہہ سکے کہ ايسے دستاويز جب ايميل کے ذريعے بيھجے جاتے ہیں تو وہ غلطی سے ڈليٹ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ....
مگر سنگت حيربيار سميت پوری بلوچ قوم کو سردار مينگل کے چارج شيٹ والے جواب سے بہت مايوسی ہوئی ہوگی کہ آپ آج بھی کسی بھی نظرياتی سياسی دستاويز کو محض ایک کغز کا ٹکڑا سمجھتے ہیں جيسے پاکستانی آئين يا اپنے کچھ سياسی جماعتوں کے پاليسيز کی طرح جب بھی حاکم چاہے اُسے ردی کی ٹھو کری کی نزر کر سکتا ہے نہیں تو آپ اس دستاويز کو پڑھنے سے پہلے ايسے غير سنجیدہ گو کہ يہ ایک بہت نرم لفظ ہے مطالبات سامنے نہ رکھتا جن کا اس دستاويز سے دور دور کا وسطہ نہیں آپ نے اس دستاويز کے مندرجات کا مطالعہ بغیر اس سے اتفاق کو اس بات سے مشروط کيا ہے کہ کچھ لوگ ایک عرصے سے بقول اُنکے مير کاروان جماعت بی اين پی کو ہدف تنقید بناۓ ہوئے ہیں جب تک اُن کو خاموش نہیں کیا جاتا يا اُنکے خلاف حيربيار با قاعدہ اخباری اسٹيٹمنٹ جاری نہیں کرتا وہ کسی منشور پر ایک ساتھ کام کرنے کو تيار نہیں ہیں اس سے پہلے کہ رويے پر نظر ڈاليں مختصر پہلے مزکورہ چارٹر کے چند اہم پوائنٹسں قارئین کی نزر کرتے ہیں جو راقم کو ایک دوست نے عنايت کرکے بتاۓ تا کہ اُنھيں پڑھ کر سردار صاحب کی رضا مندی ميں ذاتی پسند و نا پسند و نظریات کو پس پشت ڈالنے کا المیہ سمجھنے ميں آسانی ہو ...
1.پاکستان کی قبضہ گيريت کا خاتمہ اور ایک آزاد بلوچ رياست کيلئے جدوجہد کرنا
2.. آزادی کے بعد ون مين ون ووٹ کی بنياد ڈيموکريٹک ريپبلک آپ بلوچستان کی تشکیل
3..بلوچی و براہوئی بلوچستان کے قومی زبان ہوں گےوہاں آباد تمام قوميتوں کی زبانوں کے ترقی کيلئے يکساں سہوليات فراہم کئے جائیں گے
4..تعلم و صحت مفت ہوگی
5..عدالتيں آزاد ہوں گی اور ہر ایک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا
6..انسانی حقوق کی گارنٹی تمام بين القوامی قانين کے مطابق دی جائيگی
7..خواتين کو برابری کے حقوق ديئے جائیں گے
8..تمام بلوچ ساحل و وسائل پر بلوچ رياست کا اختيار ہوگا جو اپنے شہريوں کے مفاد ميں استعمال ميں لائے جائیں گے
9..بلوچ رياست کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار ہوگی جو ہمسايوں اور دنیا کے تمام ممالک سے باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات ميں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں کے مطابق ہوگی
10...بلوچ آزاد رياست ميں کسیبھی مزہبی انتہا پسندی کی کئی گنجائش نہیں رہے گی.........
(حفیظ حسن آبادی )
(لبريشن چارٹر آف بلوچستان )
اخباری اطلاعات کے مطابق واجہ خيربيار اور اُسکی ٹيم نے کئی ایک سينر دوستوں و بلوچ دانشوروں کی معاونت سے ایک چارٹرآف لبريشن تيار کیا ہے جسميں اسی کے قریب شقيں موجود ہیں اس دستاويز کو آزاد بلوچستان کا روڈ ميپ کہتے ہیں جس ميں دو بنيادی پوانٹس کے بجاۓ باقی تمام پوانٹس پر گفت و شنيد و ردو بدل کی گنجائش رکھی گئ ہے وہ شقيں جن ميں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں وہ ہے بلوچستان کی آزادی پر مکمل يقين دوسرا اُس آزاد رياست ميں سب کے برابر کے حقوق يعنی ایک شخص ایک راۓ دہی کا حق تاکہ کل کوئی وہاں سلطان بنکر بيٹھنے کا خواب نہ ديکھے _ اخباری اطلاعات کيمطابق يہ چارٹر بابا مری صاحب کو بھی پيش کيا جاچکا ہے جسے آپ نے تا حال ایک بہترین دستاويز کہا ہے چارٹر ميں دو اہم نکات کو نہ چھيڑ نے اور باقی تمام نکات پر بحث و اُن ميں تبدیلی کے امکانات کو خارج از بحث نہیں کيا گيا ہے جو اس بات کی دليل ہے کہ اس ٹيم نے يہ دستاويز سائنسی بنيادوں پر مرتب کی ہے جن ميں وقت و حالات کے ساتھ بہتری لانے کی کوششوں کيلئے دروازہ کُشا دہ رکھا ہے اور اُنھيں اپنے دستاويز پر مکمل يقين ہے کہ اس ميں اُنھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ خلوص دل سے لکھا ہے خيربيار نے اسے ديکھنے اور اپنے تجاويز پيش کرنے کيلئے ابتدا واجہ براہمدغ بگٹی سے کی تاکہ وہ اسے پڈھ کر اپنی جماعت کی طرف سے راۓ ديں خان قلات کو ایک کاپی دی گئی تاکہ وہ بھی اگر چاہيں تو اپنے تجاويز سامنے لائيں تاکہ بيرون ملک قيادت بلوچوں کی قربانيوں کی تشریح ميں تقسیم کا شکار نہ ہو آپ نے ڈاکٹر مصطفیٖ بلوچ اور سمندر آسکانی کے زريعے يہ چارٹر بی اين پی کے سر براہ اختر مينگل کو پہنچائی ہے تاکہ آپ بھی اسے پڑھيں اور اپنے تجاويز چارٹر ٹیم کو بھيجيں اور کل کوئی يہ شکوہ نہ کرے کہ ان لوگوں نے اتنا اہم دستاويز سامنے لاتے ہوۓ بی اين پی جيسے اہم اسٹيک ہولڑر سے مشوہ تک نہیں کیا -حيربيار نے اس سلسلے ميں جو تين کام کيئے ہیں اُنکی تعریف نہ کرنا انتہائی زيادتی ہوگی پہلا يہ کہ بالا آخر آپ نے اس بات کو ممکن بنایا کہ بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے کوئی ٹھوس تحريری دستاويز لبريشن چارٹر کی شکل ميں پيش کیا جاسکے اس سے قبل چار دفعہ بلوچ اپنی نجات کيلئے اُٹھی اور آپريشنز کا سامنا کرچکی ہے لیکن قيادت ایسا عہد نامہ قوم کے سامنے لانے ميں ناکام ہوئی ہے کہ کل اگر وہ آزادی کا نعرہ کسی پاکستانی اسمبلی کی بھينٹ چھڑاۓ تو کوئی اُسکے سامنے يہ دستاويز لہرا کے کہے کہ آپ نے اس پروگرام کے تحت ہمیں اکھٹے ہونے کا کہا تھا لیکن جب ہم اکھٹے ہوۓ تو آپنے ہمیں پاکستانی حاکميت کو قانونی جواز فراہم کرنے ووٹ دينے کا کہا ؟ دوسرا احسن کام يہ کیا کہ آپ نے اس غلط تاثر کو رد کیا کہ آپ کے کچھ بلوچ رہنماوں سے رابطے کا فقدان زاتی نوعیت کے اختلافات کی بنياد پر ہے آپ نے جانے اور ٹيلفون کرنے ميں پہل کرکے يہ ثابت کیا کہ قومی مفاد اور نظرياتی سياست کے سامنے زاتی تعلقات کی کوئی اہميت نہیں تيسرا اور سب سے اہم يہ کام کيا سردار مينگل کی عزت افزائی کيلئے دو آدمیوں کو خاص طور پر يورپ سے روانہ کيا گیا حالانکہ يہ کام ايميل کے زريعے بھی کی جاسکتی لیکن آپ نے اپنے آدمی بيھج کے يہ سعی کی کہ ہم اس دستاويز کو کتنا اہم سمجھتے ہیں اور اسکے پيش کرنے بھی ہر باريکی کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ کل کوئی يہ نہ کہہ سکے کہ ايسے دستاويز جب ايميل کے ذريعے بيھجے جاتے ہیں تو وہ غلطی سے ڈليٹ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ....
مگر سنگت حيربيار سميت پوری بلوچ قوم کو سردار مينگل کے چارج شيٹ والے جواب سے بہت مايوسی ہوئی ہوگی کہ آپ آج بھی کسی بھی نظرياتی سياسی دستاويز کو محض ایک کغز کا ٹکڑا سمجھتے ہیں جيسے پاکستانی آئين يا اپنے کچھ سياسی جماعتوں کے پاليسيز کی طرح جب بھی حاکم چاہے اُسے ردی کی ٹھو کری کی نزر کر سکتا ہے نہیں تو آپ اس دستاويز کو پڑھنے سے پہلے ايسے غير سنجیدہ گو کہ يہ ایک بہت نرم لفظ ہے مطالبات سامنے نہ رکھتا جن کا اس دستاويز سے دور دور کا وسطہ نہیں آپ نے اس دستاويز کے مندرجات کا مطالعہ بغیر اس سے اتفاق کو اس بات سے مشروط کيا ہے کہ کچھ لوگ ایک عرصے سے بقول اُنکے مير کاروان جماعت بی اين پی کو ہدف تنقید بناۓ ہوئے ہیں جب تک اُن کو خاموش نہیں کیا جاتا يا اُنکے خلاف حيربيار با قاعدہ اخباری اسٹيٹمنٹ جاری نہیں کرتا وہ کسی منشور پر ایک ساتھ کام کرنے کو تيار نہیں ہیں اس سے پہلے کہ رويے پر نظر ڈاليں مختصر پہلے مزکورہ چارٹر کے چند اہم پوائنٹسں قارئین کی نزر کرتے ہیں جو راقم کو ایک دوست نے عنايت کرکے بتاۓ تا کہ اُنھيں پڑھ کر سردار صاحب کی رضا مندی ميں ذاتی پسند و نا پسند و نظریات کو پس پشت ڈالنے کا المیہ سمجھنے ميں آسانی ہو ...
1.پاکستان کی قبضہ گيريت کا خاتمہ اور ایک آزاد بلوچ رياست کيلئے جدوجہد کرنا
2.. آزادی کے بعد ون مين ون ووٹ کی بنياد ڈيموکريٹک ريپبلک آپ بلوچستان کی تشکیل
3..بلوچی و براہوئی بلوچستان کے قومی زبان ہوں گےوہاں آباد تمام قوميتوں کی زبانوں کے ترقی کيلئے يکساں سہوليات فراہم کئے جائیں گے
4..تعلم و صحت مفت ہوگی
5..عدالتيں آزاد ہوں گی اور ہر ایک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا
6..انسانی حقوق کی گارنٹی تمام بين القوامی قانين کے مطابق دی جائيگی
7..خواتين کو برابری کے حقوق ديئے جائیں گے
8..تمام بلوچ ساحل و وسائل پر بلوچ رياست کا اختيار ہوگا جو اپنے شہريوں کے مفاد ميں استعمال ميں لائے جائیں گے
9..بلوچ رياست کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار ہوگی جو ہمسايوں اور دنیا کے تمام ممالک سے باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات ميں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں کے مطابق ہوگی
10...بلوچ آزاد رياست ميں کسیبھی مزہبی انتہا پسندی کی کئی گنجائش نہیں رہے گی.........
(حفیظ حسن آبادی )
(لبريشن چارٹر آف بلوچستان )
اخباری اطلاعات کے مطابق واجہ خيربيار اور اُسکی ٹيم نے کئی ایک سينر دوستوں و بلوچ دانشوروں کی معاونت سے ایک چارٹرآف لبريشن تيار کیا ہے جسميں اسی کے قریب شقيں موجود ہیں اس دستاويز کو آزاد بلوچستان کا روڈ ميپ کہتے ہیں جس ميں دو بنيادی پوانٹس کے بجاۓ باقی تمام پوانٹس پر گفت و شنيد و ردو بدل کی گنجائش رکھی گئ ہے وہ شقيں جن ميں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں وہ ہے بلوچستان کی آزادی پر مکمل يقين دوسرا اُس آزاد رياست ميں سب کے برابر کے حقوق يعنی ایک شخص ایک راۓ دہی کا حق تاکہ کل کوئی وہاں سلطان بنکر بيٹھنے کا خواب نہ ديکھے _ اخباری اطلاعات کيمطابق يہ چارٹر بابا مری صاحب کو بھی پيش کيا جاچکا ہے جسے آپ نے تا حال ایک بہترین دستاويز کہا ہے چارٹر ميں دو اہم نکات کو نہ چھيڑ نے اور باقی تمام نکات پر بحث و اُن ميں تبدیلی کے امکانات کو خارج از بحث نہیں کيا گيا ہے جو اس بات کی دليل ہے کہ اس ٹيم نے يہ دستاويز سائنسی بنيادوں پر مرتب کی ہے جن ميں وقت و حالات کے ساتھ بہتری لانے کی کوششوں کيلئے دروازہ کُشا دہ رکھا ہے اور اُنھيں اپنے دستاويز پر مکمل يقين ہے کہ اس ميں اُنھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ خلوص دل سے لکھا ہے خيربيار نے اسے ديکھنے اور اپنے تجاويز پيش کرنے کيلئے ابتدا واجہ براہمدغ بگٹی سے کی تاکہ وہ اسے پڈھ کر اپنی جماعت کی طرف سے راۓ ديں خان قلات کو ایک کاپی دی گئی تاکہ وہ بھی اگر چاہيں تو اپنے تجاويز سامنے لائيں تاکہ بيرون ملک قيادت بلوچوں کی قربانيوں کی تشریح ميں تقسیم کا شکار نہ ہو آپ نے ڈاکٹر مصطفیٖ بلوچ اور سمندر آسکانی کے زريعے يہ چارٹر بی اين پی کے سر براہ اختر مينگل کو پہنچائی ہے تاکہ آپ بھی اسے پڑھيں اور اپنے تجاويز چارٹر ٹیم کو بھيجيں اور کل کوئی يہ شکوہ نہ کرے کہ ان لوگوں نے اتنا اہم دستاويز سامنے لاتے ہوۓ بی اين پی جيسے اہم اسٹيک ہولڑر سے مشوہ تک نہیں کیا -حيربيار نے اس سلسلے ميں جو تين کام کيئے ہیں اُنکی تعریف نہ کرنا انتہائی زيادتی ہوگی پہلا يہ کہ بالا آخر آپ نے اس بات کو ممکن بنایا کہ بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے کوئی ٹھوس تحريری دستاويز لبريشن چارٹر کی شکل ميں پيش کیا جاسکے اس سے قبل چار دفعہ بلوچ اپنی نجات کيلئے اُٹھی اور آپريشنز کا سامنا کرچکی ہے لیکن قيادت ایسا عہد نامہ قوم کے سامنے لانے ميں ناکام ہوئی ہے کہ کل اگر وہ آزادی کا نعرہ کسی پاکستانی اسمبلی کی بھينٹ چھڑاۓ تو کوئی اُسکے سامنے يہ دستاويز لہرا کے کہے کہ آپ نے اس پروگرام کے تحت ہمیں اکھٹے ہونے کا کہا تھا لیکن جب ہم اکھٹے ہوۓ تو آپنے ہمیں پاکستانی حاکميت کو قانونی جواز فراہم کرنے ووٹ دينے کا کہا ؟ دوسرا احسن کام يہ کیا کہ آپ نے اس غلط تاثر کو رد کیا کہ آپ کے کچھ بلوچ رہنماوں سے رابطے کا فقدان زاتی نوعیت کے اختلافات کی بنياد پر ہے آپ نے جانے اور ٹيلفون کرنے ميں پہل کرکے يہ ثابت کیا کہ قومی مفاد اور نظرياتی سياست کے سامنے زاتی تعلقات کی کوئی اہميت نہیں تيسرا اور سب سے اہم يہ کام کيا سردار مينگل کی عزت افزائی کيلئے دو آدمیوں کو خاص طور پر يورپ سے روانہ کيا گیا حالانکہ يہ کام ايميل کے زريعے بھی کی جاسکتی لیکن آپ نے اپنے آدمی بيھج کے يہ سعی کی کہ ہم اس دستاويز کو کتنا اہم سمجھتے ہیں اور اسکے پيش کرنے بھی ہر باريکی کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ کل کوئی يہ نہ کہہ سکے کہ ايسے دستاويز جب ايميل کے ذريعے بيھجے جاتے ہیں تو وہ غلطی سے ڈليٹ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ....
مگر سنگت حيربيار سميت پوری بلوچ قوم کو سردار مينگل کے چارج شيٹ والے جواب سے بہت مايوسی ہوئی ہوگی کہ آپ آج بھی کسی بھی نظرياتی سياسی دستاويز کو محض ایک کغز کا ٹکڑا سمجھتے ہیں جيسے پاکستانی آئين يا اپنے کچھ سياسی جماعتوں کے پاليسيز کی طرح جب بھی حاکم چاہے اُسے ردی کی ٹھو کری کی نزر کر سکتا ہے نہیں تو آپ اس دستاويز کو پڑھنے سے پہلے ايسے غير سنجیدہ گو کہ يہ ایک بہت نرم لفظ ہے مطالبات سامنے نہ رکھتا جن کا اس دستاويز سے دور دور کا وسطہ نہیں آپ نے اس دستاويز کے مندرجات کا مطالعہ بغیر اس سے اتفاق کو اس بات سے مشروط کيا ہے کہ کچھ لوگ ایک عرصے سے بقول اُنکے مير کاروان جماعت بی اين پی کو ہدف تنقید بناۓ ہوئے ہیں جب تک اُن کو خاموش نہیں کیا جاتا يا اُنکے خلاف حيربيار با قاعدہ اخباری اسٹيٹمنٹ جاری نہیں کرتا وہ کسی منشور پر ایک ساتھ کام کرنے کو تيار نہیں ہیں اس سے پہلے کہ رويے پر نظر ڈاليں مختصر پہلے مزکورہ چارٹر کے چند اہم پوائنٹسں قارئین کی نزر کرتے ہیں جو راقم کو ایک دوست نے عنايت کرکے بتاۓ تا کہ اُنھيں پڑھ کر سردار صاحب کی رضا مندی ميں ذاتی پسند و نا پسند و نظریات کو پس پشت ڈالنے کا المیہ سمجھنے ميں آسانی ہو ...
1.پاکستان کی قبضہ گيريت کا خاتمہ اور ایک آزاد بلوچ رياست کيلئے جدوجہد کرنا 
2.. آزادی کے بعد ون مين ون ووٹ کی بنياد ڈيموکريٹک ريپبلک آپ بلوچستان کی تشکیل 
3..بلوچی و براہوئی بلوچستان کے قومی زبان ہوں گےوہاں آباد تمام قوميتوں کی زبانوں کے ترقی کيلئے يکساں سہوليات فراہم کئے جائیں گے 
4..تعلم و صحت مفت ہوگی 
5..عدالتيں آزاد ہوں گی اور ہر ایک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا 
6..انسانی حقوق کی گارنٹی تمام بين القوامی قانين کے مطابق دی جائيگی
7..خواتين کو برابری کے حقوق ديئے جائیں گے 
8..تمام بلوچ ساحل و وسائل پر بلوچ رياست کا اختيار ہوگا جو اپنے شہريوں کے مفاد ميں استعمال ميں لائے جائیں گے 
9..بلوچ رياست کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار ہوگی جو ہمسايوں اور دنیا کے تمام ممالک سے باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات ميں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں کے مطابق ہوگی 
10...بلوچ آزاد رياست ميں کسیبھی مزہبی انتہا پسندی کی کئی گنجائش نہیں رہے گی.........
(حفیظ حسن آبادی )
(لبريشن چارٹر آف بلوچستان )
اخباری اطلاعات کے مطابق واجہ خيربيار اور اُسکی ٹيم نے کئی ایک سينر دوستوں و بلوچ دانشوروں کی معاونت سے ایک چارٹرآف لبريشن تيار کیا ہے جسميں اسی کے قریب شقيں موجود ہیں اس دستاويز کو آزاد بلوچستان کا روڈ ميپ کہتے ہیں جس ميں دو بنيادی پوانٹس کے بجاۓ باقی تمام پوانٹس پر گفت و شنيد و ردو بدل کی گنجائش رکھی گئ ہے وہ شقيں جن ميں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں وہ ہے بلوچستان کی آزادی پر مکمل يقين دوسرا اُس آزاد رياست ميں سب کے برابر کے حقوق يعنی ایک شخص ایک راۓ دہی کا حق تاکہ کل کوئی وہاں سلطان بنکر بيٹھنے کا خواب نہ ديکھے _ اخباری اطلاعات کيمطابق يہ چارٹر بابا مری صاحب کو بھی پيش کيا جاچکا ہے جسے آپ نے تا حال ایک بہترین دستاويز کہا ہے چارٹر ميں دو اہم نکات کو نہ چھيڑ نے اور باقی تمام نکات پر بحث و اُن ميں تبدیلی کے امکانات کو خارج از بحث نہیں کيا گيا ہے جو اس بات کی دليل ہے کہ اس ٹيم نے يہ دستاويز سائنسی بنيادوں پر مرتب کی ہے جن ميں وقت و حالات کے ساتھ بہتری لانے کی کوششوں کيلئے دروازہ کُشا دہ رکھا ہے اور اُنھيں اپنے دستاويز پر مکمل يقين ہے کہ اس ميں اُنھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ خلوص دل سے لکھا ہے  خيربيار نے اسے ديکھنے اور اپنے تجاويز پيش کرنے کيلئے ابتدا واجہ براہمدغ بگٹی سے کی تاکہ وہ اسے پڈھ کر اپنی جماعت کی طرف سے راۓ ديں خان قلات کو ایک کاپی دی گئی تاکہ وہ بھی اگر چاہيں تو اپنے تجاويز سامنے لائيں تاکہ بيرون ملک قيادت بلوچوں کی قربانيوں کی تشریح ميں تقسیم کا شکار نہ ہو آپ نے ڈاکٹر مصطفیٖ بلوچ اور سمندر آسکانی کے زريعے يہ چارٹر بی اين پی کے سر براہ اختر مينگل کو پہنچائی ہے تاکہ آپ بھی اسے پڑھيں اور اپنے تجاويز چارٹر ٹیم کو بھيجيں اور کل کوئی يہ شکوہ نہ کرے کہ ان لوگوں نے اتنا اہم دستاويز سامنے لاتے ہوۓ بی اين پی جيسے اہم اسٹيک ہولڑر سے مشوہ تک نہیں کیا -حيربيار نے اس سلسلے ميں جو تين کام کيئے ہیں اُنکی تعریف نہ کرنا انتہائی زيادتی ہوگی پہلا يہ کہ بالا آخر آپ نے اس بات کو ممکن بنایا کہ بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے کوئی ٹھوس تحريری دستاويز لبريشن چارٹر کی شکل ميں پيش کیا جاسکے اس سے قبل چار دفعہ بلوچ اپنی نجات کيلئے اُٹھی اور آپريشنز کا سامنا کرچکی ہے لیکن قيادت ایسا عہد نامہ قوم کے سامنے لانے ميں ناکام ہوئی ہے کہ کل اگر وہ آزادی کا نعرہ کسی پاکستانی اسمبلی کی بھينٹ چھڑاۓ تو کوئی اُسکے سامنے يہ دستاويز لہرا کے کہے کہ آپ نے اس پروگرام کے تحت ہمیں اکھٹے ہونے کا کہا تھا لیکن جب ہم اکھٹے ہوۓ تو آپنے ہمیں پاکستانی حاکميت کو قانونی جواز فراہم کرنے ووٹ دينے کا کہا ؟ دوسرا احسن کام يہ کیا کہ آپ نے اس غلط تاثر کو رد کیا کہ آپ کے کچھ بلوچ رہنماوں سے رابطے کا فقدان زاتی نوعیت کے اختلافات کی بنياد پر ہے آپ نے جانے اور ٹيلفون کرنے ميں پہل کرکے يہ ثابت کیا کہ قومی مفاد اور نظرياتی سياست کے سامنے زاتی تعلقات کی کوئی اہميت نہیں تيسرا اور سب سے اہم يہ کام کيا سردار مينگل کی عزت افزائی کيلئے دو آدمیوں کو خاص طور پر يورپ سے روانہ کيا گیا حالانکہ يہ کام ايميل کے زريعے بھی کی جاسکتی لیکن آپ نے اپنے آدمی بيھج کے يہ سعی کی کہ ہم اس دستاويز کو کتنا اہم سمجھتے ہیں اور اسکے پيش کرنے بھی ہر باريکی کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ کل کوئی يہ نہ کہہ سکے کہ ايسے دستاويز جب ايميل کے ذريعے بيھجے جاتے ہیں تو وہ غلطی سے ڈليٹ بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ....
مگر سنگت حيربيار سميت پوری بلوچ قوم کو سردار مينگل کے چارج شيٹ والے جواب سے بہت مايوسی ہوئی ہوگی کہ آپ آج بھی کسی بھی نظرياتی سياسی دستاويز کو محض ایک کغز کا ٹکڑا سمجھتے ہیں جيسے پاکستانی آئين يا اپنے کچھ سياسی جماعتوں کے پاليسيز کی طرح جب بھی حاکم چاہے اُسے ردی کی ٹھو کری کی نزر کر سکتا ہے نہیں تو آپ اس دستاويز کو پڑھنے سے پہلے ايسے غير سنجیدہ گو کہ يہ ایک بہت نرم لفظ ہے  مطالبات سامنے نہ رکھتا جن کا اس دستاويز سے دور دور کا وسطہ نہیں آپ نے اس دستاويز کے مندرجات کا مطالعہ بغیر اس سے اتفاق کو اس بات سے مشروط کيا ہے کہ کچھ لوگ ایک عرصے سے بقول اُنکے مير کاروان جماعت بی اين پی کو ہدف تنقید بناۓ ہوئے ہیں جب تک اُن کو خاموش نہیں کیا جاتا يا اُنکے خلاف حيربيار با قاعدہ اخباری اسٹيٹمنٹ جاری نہیں کرتا وہ کسی منشور پر ایک ساتھ کام کرنے کو تيار نہیں ہیں اس سے پہلے کہ رويے پر نظر ڈاليں مختصر پہلے مزکورہ چارٹر کے چند اہم پوائنٹسں قارئین کی نزر کرتے ہیں جو راقم کو ایک دوست نے عنايت کرکے بتاۓ تا کہ اُنھيں پڑھ کر سردار صاحب کی رضا مندی ميں ذاتی پسند و نا پسند و نظریات کو پس پشت ڈالنے کا المیہ سمجھنے ميں آسانی ہو ...
1.پاکستان کی قبضہ گيريت کا خاتمہ اور ایک آزاد بلوچ رياست کيلئے جدوجہد کرنا 
2.. آزادی کے بعد ون مين ون ووٹ کی بنياد ڈيموکريٹک ريپبلک آپ بلوچستان کی تشکیل 
3..بلوچی و براہوئی بلوچستان کے قومی زبان ہوں گےوہاں آباد تمام قوميتوں کی زبانوں کے ترقی کيلئے يکساں سہوليات فراہم کئے جائیں گے 
4..تعلم و صحت مفت ہوگی 
5..عدالتيں آزاد ہوں گی اور ہر ایک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا 
6..انسانی حقوق کی گارنٹی تمام بين القوامی قانين کے مطابق دی جائيگی
7..خواتين کو برابری کے حقوق ديئے جائیں گے 
8..تمام بلوچ ساحل و وسائل پر بلوچ رياست کا اختيار ہوگا جو اپنے شہريوں کے مفاد ميں استعمال ميں لائے جائیں گے 
9..بلوچ رياست کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار ہوگی جو ہمسايوں اور دنیا کے تمام ممالک سے باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات ميں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں کے مطابق ہوگی 
10...بلوچ آزاد رياست ميں کسیبھی مزہبی انتہا پسندی کی کئی گنجائش نہیں رہے گی.........
(حفیظ حسن آبادی )

No comments:

Post a Comment