
بلوچستان کے شہر تربت میں کل رات فرنٹیئر کورکی جانب سے ایک سکول ٹیچر اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے خلاف آج خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے ایف سی کیمپ کے سامنے مظاہر ہ کیا ہے۔
مظاہرین کو منتشرکرنے کےلیےفرنٹیئر کور نے لاٹھی چارج اور آ نسوگیس کا استعمال کیا ہے جس میں سے کئی خواتین زخمی ہوئی ہیں۔
کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان نے تربت میں مظاہرین پر لاٹھی چارج کی تصدیق کی ہے۔ البتہ انہوں نے تردید کی کہ اس لاٹھی چارج میں کئی خواتین زخمی ہوئی ہیں۔
تر بت کےعلاقے تمپ میں کل رات سحری کےوقت فرنٹیئر کور نے ایک سکول ٹیچراور بلوچ ایب علی جان قومی کےگھر پر چھاپہ مارکر علی جان قومی اور ان کے بیٹےمجاہد قومی کوگرفتار کیا ہے جس کےخلاف تربت میں خواتین اور بچوں نے ایف سی کیمپ کے سامنے مظاہرہ کیا۔
بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد کی خاتون رہنماء کریمہ بلوچ نے بتایا کہ علی جان بلوچ شوگرکے مریض ہے اور تین دن قبل کراچی سے گھرآئے تھے اورگیارہ ستمبر کو انجیکش لگانے کے لیے واپس کراچی جانا ہے لیکن ایف سی نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
اس موقع پر علی جان کی بیٹی سہلہ قومی نے بتایا کہ سحری کے وقت ایف سی اور اے ٹی ایف اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے گھرمیں گھس کر ان کے والد اور بھائی کو گرفتار کر لیا۔ سہلہ قومی نے الزام عائد کیا کہ ان کے باپ اور بھائی پر گرفتاری کے وقت تشدد کیا گیا۔
مظاہرے کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں پر بھی تشدد کی اطلاعات ہیں اور ایک ٹی وی چینل کے کمرہ مین ارشاد اخترسے ان کا کیمرہ بھی چھین لیاگیاہے۔
کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضی بیگ نے کہاہے کہ ایف سی نے اس وقت مظاہرین پر لاٹھی چار اور آنسوگیس پھینکی جب مظاہر ے میں شریک خواتین نے زبردستی ایف سی کیمپ کےگیٹ نمبر تین کے ذریعے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ ترجمان نے تردید کی کہ کوئی خاتون زخمی ہوئی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ مذکورہ صحافی کوان کا کیمرہ واپس کردیا جائےگا۔
BBC Urdu
No comments:
Post a Comment