بتایا کہ نبیل بلوچ کو کراچی کے علاقے چاکیواڑہ جٹ پٹ مارکیٹ سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اس وقت اغواء کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاجب وہ اپنی بہن کے ساتھ شاپنگ میں مصروف تھے اس دن سے لیکر آج تک نبیل بلوچ کا کوئی اتاپتا نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو انکے بارے میں کوئی معلومات دی گئی ہیں اہلخانہ کے مطابق انہوں نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن میں دائر کی ہے جس پر نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نبیل بلوچ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں مگر تاحال انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے نبیل بلوچ کے اہلخانہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا ہے جو تاحال جاری ہے مگر اب تک نہ حکومت نے اس مسئلے کی جانب توجہ دے کر انکی داد رسی کی ہے اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کے کسی بااثر ادارے نے اس واقعے کی جانب توجہ مبذول کیا ہے جو ایک تشوشناک امر ہے چیئرپرسن نے دو روز قبل سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نوشکی کے علاقے کلی باٹوسے متعدد افراد کے اغواء کو بھی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دو روز قبل نوشکی کے علاقے کلی باٹو میں چھاپہ مار کر 7افراد کو اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا درین ثناء بی ایچ آر اوکی چیئرپرسن نے تربت بازار سے جمک ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر یوسف گونڈی کے اغواء پر بھی شدید تشویش کا ظہار کیاانہوں نے کہا کہ ہائی اسکول جمک کے ہیڈ ماسٹر یوسف گونڈی کو بھی تربت بازار سینما چوک سے سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرکے نامعلو مقام پر منتقل کردیا انہوں نے اس واقعے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کے اغواء کو علم و تعلیم پر قدغن لگانے کے مترادف قراردیا انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک امرہے کہ دن دیہاڑے بھرے بازار میں سینکڑوں افراد کی موجودگی میں سیکیورٹی فورسز ایک اسکول کے سربراہ کو اٹھا کر لے جاتے ہیں مگر تاحال حکام سمیت شعبہ تعلیم نے بھی اس واقعے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا یا ہے بی ایچ آر او کی چیئرپرسن نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف اوقات میں اغواء کیئے مذکورہ بالا افراد کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
Sunday, September 14, 2014
Sunday, September 14, 2014
No comments:
Post a Comment