Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

گوریلہ سپاہی کے لیے اصول اور حوصلہ ضروری ہے



گوریلہ سپاہی کے لیے اصول اور حوصلہ ضروری ہے
تحریر: باران بلوچ
کہنا اور لکھنا بہت آسان ہے مگر کچھ کرکے دکھانا بڑا مشکل ہے۔ ہزار سلام ان نوجوانوں کو جنہوں نے تمام دنیا وہی خواہشات کو با لائے طاق رکھ کر راہ آزادی کے لیے پہاڑوں کا رخ کیا یا گلی کوچوں میں کفن سر پر باندھ کر اس تمنا کے لیے کھٹے ہیں کہ یا دشمن سے آزادی ملےیا زندگی گنوادینگے۔ ذاتی مشاہدات ومعلومات سے اپنی قوم، مدبرین اور قوم دوست حضرات کی خصوصیات وخامیاں سامنے لانے اور وہ بھی اس انداز میں کہ کسی سنگت ساتھی کی دل آزاری، طرفداری، شخصیت پرستی، تنقید برائے تنقید نہ ہو اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ مگر یہ ضروی بھی نہیں سچ کچھ میرے کہنے اور میرے سوچنے کے مطابق چلے۔ لکھنے کا مقصد حوصلہ افزائی اور کمزوریوں کی طرف ایک معمولی سا اشارہ ہے تاکہ قوم اپنے طور طریقہ حکمت عملی سوچ وغور سے ان خامیوں، کمزوریوں کا علاج کرسکے۔ ہر لکھاری کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنا فرض نبھائے مگر بد قسمتی ہے کہ ہمارے کافی حضرات علاقائی حدبندی، جان پہچان، شخصیات کی تعریف اور صرف تعریف تک محدود ہیں۔ میری ناقص ذہن کے مطابق تعریف سے بڑھ کر ہمارے لیے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی ضروری ہے۔ فی الحال تعریف کی حد تک 68800_391797504232840_19098318_nہماری منزل نہیں پہنچ پائی ہے البتہ منزل کی جانب رواں دواں ضرور ہیں۔ حوصلہ افزائی تک تعریف اور شہداء کے نام سنہری الفاظ جتنے بھی لکھے جائیں ممکن و جائز ہے۔ یہاں کمزوری کا اعتراف کرنا محال ہے اور نشاندہی کرنا سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اگر تنقید برائے اصلاح بھی ہو اور یہاں کے کسی سیاسی پارٹی یا کسی تنظیم کا نام لیا گیا ہوتو اسے مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی کمزوری ہو اسکا اعتراف اور پھر اصلاح نہ ہو تب تک آگے بڑھنا مشکل ہے۔ پہاڑوں پر بیٹھے یا گلی کوچوں میں لڑنے والا پڑھے لکھے طبقے کے افراد کو چاہیے کہ وہاں کے ماحول میں اپنی کمزوریوں کے اصلاح کے بارے میں رائے ومشورہ دیں۔ ضروری نہیں کہ جس تنظیم یا سیاسی پارٹی سے تعلق ہو ہر وقت اسکی تعریف کے قصیدے لکھے جائیں۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان یا صحافی قوم یا معاشرے میں آئینے کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہیں معاشرے میں ناانصافیوں ظلم وجبر کے خلاف اور مظلوم اقوام کے لیے آواز بننا ہے۔ اج جس مقام پر کاروان آزادی کھڑی ہے شاہد کمزوریوں کے کسی دھیر سے کم نہیں جسکی وجہ سے ہماری منزل دور پڑ رہی ہے۔ یہ کمزوریاں کیا ہیں۔ کیسے دور کی جاسکتی ہیں؟
کچھ اس انداز میں بیان ہونی چائیں کہ مشکل ومصائب میں گھرے آزادی پسند دوستوں کو ناگوارہ نہ گزرے اور انہیں بھی چاہیے کہ ہنس کر قبول کریں۔ کچھ کمزوریاں مل بیٹھ کر دور کی جاتی ہیں اور جنکا تعلق عوام سے ہو تب میڈیا کا سہارا لینا چاہیے۔ میرا یہ لمبا چوڑا قصہ کہانی شاید کسی کو برا لگے مگر کچھ ایسی کمزوریاں یا خامیاں جو ہر گوریلا جنگ کے سپاہیوں میں پائی جاتی ہیں شاہد ہمارے ہاں بھی ہوں تو ضروری ہے اس طرح کی خامیاں کی نشاندہی وقت سے پہلے ہو۔ ان میں سب سے بڑی خامی گوریلا کیمپوں میں گروہ بندی، ذاتی سنگت، دوستی، گوریلا سپائیوں میں اونچ نیچ، بن سکتے ہیں۔ سینئر و جونیئر کا فرق غیر ضروری مذاق ومباحثہ، ایکدوسرے کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا، قبیلہ داری، ڈسپلن کی خلاف ورزی کو درگزر کرنا وغیرہ اپنے ہی راستے میں کانٹا بچھانے کے مترادف ہے۔ سپاہوں میں معاشی برابری کبھی ایک جیسا نہیں ہوتا، معاشی برتری پر ایک دوسرے کے حقارت اور احساس کمتری کا احساس دلانا۔ ظاہر ہے کوئی پھٹے برانے کپڑوں میں گھر بار اور خاندان کو ہزار معاشی مشکلات میں چھوڑ کر آتا ہے، سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس طرح سپاہیوں کو دو طرح کے دشمن کا سامنا ہے۔ ایسی حالت میں کمانڈر کو چاہیے کہ کوئی ایسا قانون یا نظام بنائے کہ وہاں بیٹھنے والوں میں ایک دوسرے پر معاشی برتری کا احساس نہ ہو۔ ضروری ہے کہ وہاں ایک درسگاہ کا ماحول ہو۔ دشمن کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی و شعوری تعلیم کا پروگرام عمل ہونا چاہیے۔ اسکے علاوہ گوریلا سپاہیوں کو علاقائی عوام کے ساتھ تعاون بڑھانے چاہیے، انکے انداز سوچ کو بدلنا، وہاں کے لوگوں کو قائل کرنا کہ وہ حقیقت کو سمجھ سکیں اور حقیقت کا ساتھ دیں۔ عوام کے اندرونی تنازعات کے فیصلوں میں طرفداری، سنگت پرستی، قوم داری نہ ہو۔ یعنی فیصلوں کو حقائق پر بنی اس انداز میں کیا جائے کہ دونوں فریقوں کا دل نہ ٹوٹے، سزا اور جرمانے پر اس انداز میں عمل کرنا چاہیے کہ سزا یافتہ فریق بھی اس قدر بد دل نہ ہو کہ دشمن کے صف میں جا نکلے۔ اسکی ذہنی تربیت کی جائے۔ انہیں قائل کیا جائے کہ وہ غلط کررہے ہیں۔ انہیں ذلت کے حصار سے نکالنے کے لیے باقاعدہ انقلابی نظام اور مستقل آزادی کے حقیقت کو انکے ذہنوں میں اس انداز میں بٹھانا چاہیے جس انداز میں وہ سمجھ سکیں۔ اگر کسی ان پڑھ کے سامنے سائنسی انداز میں کچھ بیان کرے تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ انہیں دشمن کے خطرناک چالوںسے آگاہ کیا جائے۔ انکے مسائل ، مجبوریوں میں انکی مدد اور ان سے ہمدردی جتانی چاہیے، انہیں اپنائیت کا احساس دلانا چاہیے۔ کم علمی اور بے تعلیمی کی وجہ سے وہ غلامانہ سماج اور آزاد سماج سے ناواقف ہونا ہے۔
دوران جھڑپ قریبی آبادی کےلوگوں کا خاص خیال رکھا جائے کہ وہ اآئندہ بھی مشکل حالات میں ساتھ دیں۔ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر دشمن پر حملہ ایسی جگہ کرنی چاہیے کہ قریبی آبادی پر دشمن کو کسی صورت حملے یا ظلم کا موقع نہ ملے۔ اپنے نقل وحرکت اور رسد کے راستوں پر پڑنے والے عام آبادی کا خاص خیال رکھا جائے۔ باربار دیکھا گیا ہے کہ جس جگہ حملہ ہوتا ہے ۔ شکست کوردہ یذیدی لشکر وہاں کے لوگوں پر ٹوٹ پڑتی ہے۔ اس طرح کی کاروائیوں سے ذہنی طورپر نا پختہ علاقائی لوگ طاقتور دشمن کے بجائے سرمچاروں کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ پھر دشمن کو لوگوں سے قربت اور انہیں خریدنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنےزرخریدوں اور معشیت کا سہارا لیکر سادہ لوح عوام کو ورغلانے میںکامیاب ہوجاتا ہے۔ اسکے علاوہ حملے کی جگہ میںتبدیلی بہت ضروری ہے۔ باربار ایک ہی سمت میں حملہ دشمن کو چوکس کرتا ہے۔
کمانڈر اگر اپنے ذاتی وجوہات کی بناء پراگر کچھ دن کیمپ سے باہر رہے تو ضروری ہے کہ نئے کمانڈر کا چناؤ اس انداز میں کیا جائیے کہ دشمن کو یہ محسوس نہ ہوسکے کہ کمان یا حملوں میں شدت یا کمی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ کمانڈر کو ڈھونڈ نکالنے یا انکے نقل و حرکت کے راستوں پر انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتا ہے۔ نئے کمانڈر کو چاہیے کہ پرانے کمانڈر کے حکم کے بجائے اپنے موجودہ ساتھیوں کے صلاح و مشورہ سے اپنے آئندہ کی حکمت عملی پر کاربند رہے۔ اس باتھ سے دل آزاری نہ ہو کیونکہ دور رہ کر کسی بھی حملے یا جھڑپ کا اندازہ، طور طریقہ وحکمت عملی کا اندازہ کسی سے بھی بڑھ کر حملہ کرنے والے خود اچھی طرح لگا سکتے ہیں۔ اور پھر باہر جانے والے کسی بھی سپاہی یا کمانڈر کو دشمن ہر طرح خرید نے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر خدانخواستہ دشمن اس چال میں کامیاب رہاتو اس نظام کے برخلاف چلنے سے نقصان زیادہ ہوگا۔ لہذا گوریلا وار میں سپاہی کےلیے حوصلہ اور اصول ضروری ہیں۔
میرے اس مضمون کو تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح سمجھا جائے اور ہاں تعریف کے لائق صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لہو کی روشنی سے دوست ودشمن کو ظاہر کیا۔ ان کی تعریف، قدرواحترام میں فرق نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے شہداء کی تعداددنیا کے کسی محکوم آزادی طلب قوم کےشہداء سے کم نہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ انکی برسیوں، جنازوں اور انکے شہادت کے ردعمل میں یکساں جزبہ رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کا بدلہ لینے کا اعلان کیا جائے اور دوسرے کا نہیں۔ کسی ایک کی قربانیوں کا تزکرہ کیا جائے اور کسی ایک کا نام اخبار تک میں نہ آئے۔ اس سے دوسرے شہداء کے ورناء اور خود شہداء کے روحوں پر کیا گزرے گا۔ علاقائی ااورقومی حوالے سے شہداء کی صلاحیتوں میں فرق کرنابڑی نا انصافی ہے اور مستقبل میں ساتھیوں کے لیے باعث مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔
بشکریہ : سنگر پبلیکشنز 2012

No comments:

Post a Comment