Long live free and united Balochistan

Long live free and united Balochistan

Search This Blog

Translate

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ




وقتِ اشاعت: 
mama21
انگریز بہادر نے بلوچستان کو سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر تقسیم کیا ۔ اس طرح قبائلی ‘ سب قبائل اور یہاں تک خاندان بھی تقسیم ہوئے ۔ لوگ سرحد کے اس پار رہتے ہیں مگر ان کی خاندانی زمین ایران میں واقع ہے ۔ گزشتہ ادوار میں لوگوں کے آمد ورفت پر اتنی پابندیاں نہیں تھیں ۔ حالیہ سالوں میں دونوں ممالک ایران اور پاکستان نے سفر پر پابندیاں عائد کیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ ’’ بلوچ تنازعہ ‘‘ ہے ۔ دونوں ممالک کی پالیسی اور خیالات میں یکسانیت پائی جاتی ہے کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں پر زیادہ سے زیادہ سختی کی جائے ان خاندانوں کی آمد ورفت کو ممکنہ حد تک محدود کیاجائے ۔ منقسم خاندانوں کو سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔چنانچہ راہداری کے نظام کی اہمیت کو کم سے کم تر کیاجائے ۔ 1956ء میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں ‘ خصوصاً منقسم خاندانوں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جائیں اس کے لئے مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو راہداری یا (ریڈ پاس ) جاری کرے ۔ پہلے یہ اختیارات تحصیل داروں کی حد تک افسران کو حاصل تھے۔ ایران کی شکایات کے بعد راہداری کو صرف اور صرف ڈپٹی کمشنر تک محدود کردیا گیا ۔ اس طرح سے 1956کے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔ سرحدی علاقے کے لوگوں کو سینکڑوں میل سفر کرکے ضلعی ہیڈ کوارٹرز آنا پڑتا ہے اور کئی دنوں بعد ان کو راہداری دی جاتی ہے پہلے تحصیل دار اور ناظم کے دفتر جو نزدیک ترین حکومتی دفتر ہوتا ہے لوگ آسانی سے راہداری حاصل کر لیتے تھے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے ان خاندانوں کو ایران میں داخل ہونے سے روک دیاہے حالانکہ ان کے ہر قانونی سفری دستاویزات موجود تھیں یہ راہداری ضلع کے سربراہ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جاری کئے تھے۔ ان لوگوں نے اعتراض کیا کہ وہ بلوچ ہیں اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ ان کو اپنے خاندان کے افراد سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ اس احتجاج کے باوجود خاندانوں کو ایران میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اس امتیازی سلوک پر خاندان کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو ا۔اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا ضروری ہے ۔ حکومت کو چائیے کہ وہ اس امتیازی سلوک پر حکومت ایران سے بھرپور احتجاج کرے ۔ ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرے ان سے اس سلوک کی وضاحت طلب کی جائے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ راہداری کو تسلیم نہیں کرنا دوطرفہ معاہدے کے خلاف ورزی ہے ۔دوسری جانب حکومت ایران کو چائیے کہ وہ ان سرکاری افسران کی سرزنش کرے جنہوں نے بلوچ خاندانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے ایران کے سرحد پر صرف اور صرف بلوچ رہتے ہیں ایرانی حکومت کو چاہیئے کہ وہ بلوچوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برادرانہ ‘ دوستانہ رکھے تاکہ ان کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو اور نہ ہی ایرانی بلوچوں کے حقوق خصوصاً انسانی حقوق پامال نہ ہوں ۔

No comments:

Post a Comment