
Noori Baloch med Cheraag Baloch och 9 andra
دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھے بلوچ متحد ہو کر بلوچستان کی آواز بن کر دنیا کو بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آگاہ کریں، اور دنیا کو یہ بتائیں کے بلوچ اپنی قومی آزادی کی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے
بی ایس او آزاد آسٹریلیا زون کا آرگنائزر زیب بلوچ
بی ایس آزاد آسٹریلیا میلبرون زون کا آسٹریلین پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
مظاہرہ کے شرکا اور انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلیا زون کے آرگنائزر زیب بلوچ نے کہا کہ ریاست پاکستان کے خفیہ اداروں اور دیگر فورسز بلوچستان میں بے لگام گھوم رہے ہیں اور جب چاہا جہاں چاہا بلوچ سیاسی کارکنان ، مزدوروں ، چرواہوں سے لیکر ٹیچر وکلا اور کسی بھی شعبے سے تعلق رکنے والے بلوچوں کو اغواء کر کے لے جاتے ہیں اور بعد میں انکی مسخ شدہ لاش کسی ویرانے میں پڑی مل جاتی ہے۔ اور آج بلوچستان میں اجتماعی قبریں بر آمد ہو رہی ہیں ، جو کہ بلوچ مسنگ پرسنز کی ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان لاشوں کو بلوچ مسنگ پرسنز کے لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے ریاستی فورسز انہیں اپنے تحویل میں لیے ہوئے ہیں ، جب کے وہ سب لاشیں ڈی۔این۔اے ٹسٹ کے لیے بلوچ لواحقین کے حوالے کرنے چاہیے تھیں،آج پاکستان کی ان سفاکیوں اور نا روا سلوک کو دیکھ کر بھی عالمی ادارے خاموش ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو چائیے تھا کہ وہ پاکستانی ریاست پر دباؤ ڈال کر ان کیسز کی تحقیقات میں بذاتِ خود کردار ادا کرتا اور ایسے جنگی جرائم میں ملوث پاکستانی حکمرانوں، اور خفیہ اداروں کے سربراہاں پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلاتے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دس سالہ چاکر سے لے چودہ سالہ چاکر تک ریاستی فورسز کے ہاتھوں شکار بنے مگر پھر بھی دنیا خاموشی توڑنے سے قاصر ہے۔ انہوں کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھے بلوچ متحد ہو کر بلوچستان کی آواز بن کر دنیا کو بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آگاہ کریں، اور دنیا کو یہ بتائیں کے بلوچ اپنی قومی آزادی کی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کیا کہ وہ بلوچستان میں خود مداخلت کر کے انسانی حقاق کی پامالیوں کے کیسز کی تحقیقات کریں اور پاکستانی ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچوں کی اغوا نما گرفتاری بند کریں۔
بی ایس او آزاد آسٹریلیا زون کا آرگنائزر زیب بلوچ
بی ایس آزاد آسٹریلیا میلبرون زون کا آسٹریلین پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
مظاہرہ کے شرکا اور انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلیا زون کے آرگنائزر زیب بلوچ نے کہا کہ ریاست پاکستان کے خفیہ اداروں اور دیگر فورسز بلوچستان میں بے لگام گھوم رہے ہیں اور جب چاہا جہاں چاہا بلوچ سیاسی کارکنان ، مزدوروں ، چرواہوں سے لیکر ٹیچر وکلا اور کسی بھی شعبے سے تعلق رکنے والے بلوچوں کو اغواء کر کے لے جاتے ہیں اور بعد میں انکی مسخ شدہ لاش کسی ویرانے میں پڑی مل جاتی ہے۔ اور آج بلوچستان میں اجتماعی قبریں بر آمد ہو رہی ہیں ، جو کہ بلوچ مسنگ پرسنز کی ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان لاشوں کو بلوچ مسنگ پرسنز کے لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے ریاستی فورسز انہیں اپنے تحویل میں لیے ہوئے ہیں ، جب کے وہ سب لاشیں ڈی۔این۔اے ٹسٹ کے لیے بلوچ لواحقین کے حوالے کرنے چاہیے تھیں،آج پاکستان کی ان سفاکیوں اور نا روا سلوک کو دیکھ کر بھی عالمی ادارے خاموش ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو چائیے تھا کہ وہ پاکستانی ریاست پر دباؤ ڈال کر ان کیسز کی تحقیقات میں بذاتِ خود کردار ادا کرتا اور ایسے جنگی جرائم میں ملوث پاکستانی حکمرانوں، اور خفیہ اداروں کے سربراہاں پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلاتے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دس سالہ چاکر سے لے چودہ سالہ چاکر تک ریاستی فورسز کے ہاتھوں شکار بنے مگر پھر بھی دنیا خاموشی توڑنے سے قاصر ہے۔ انہوں کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھے بلوچ متحد ہو کر بلوچستان کی آواز بن کر دنیا کو بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آگاہ کریں، اور دنیا کو یہ بتائیں کے بلوچ اپنی قومی آزادی کی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنے والے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کیا کہ وہ بلوچستان میں خود مداخلت کر کے انسانی حقاق کی پامالیوں کے کیسز کی تحقیقات کریں اور پاکستانی ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچوں کی اغوا نما گرفتاری بند کریں۔

No comments:
Post a Comment