ی تکمیل کادن ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ داؤپہ لگاکر بلوچ قوم کو برطانیہ کی غلامی سے نجات دلاتے ہوئے بلآخر11اگست 1947کوبلوچ وطن کی آزادی کے اعلان کرنے میں کامیاب ہوگئے یہ دن ہمارے لئے تجدید عہد کا دن اورریاست کے لئے نوشتہ دیوار ہے کہ جب بلوچ قوم اپنی دفاع اور آزادی کے لئے وقت کے سپر پاور برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کرکے آزادی لے سکتے ہیں توپھر وہ دن دور نہیں کہ بلوچ قوم قابض کی غلامی سے نکل کر اپنی جداگانہ شناخت کے ساتھ دنیا کے نقشے اور اقوام عالم کے برابر ایک آزاد قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں ترجمان نے کہاکہ یاد رہے کہ 11اگست کوبلوچ سالویشن فرنٹ کے اتحادی تنظیم بلوچ وطن موومنٹ کی آٹھوان یوم تاسیس بھی ہے2006 میں اسی دن کی تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھ کرآزادی کی بنیادی منشور کے ساتھ بلوچ وطن موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی ترجمان نے کہاہے کہ 1839کوبلوچ وطن پر انگریزی قبضہ کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہید محراب خان اور ان کے ساتھی جہد آزادی کی پہلی اینٹ رکھتے ہوئے سیاسی وطنی اور قومی دفاع کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرکے اپنے لہو کے روشنی میں آنے والوں بلوچ نسلوں کے لئے چراغ راہ بن جاتے ہیں اسی تسلسل کو لے کر میر یوسف عزیز مگسی سردار خیر بخش مری ر نورا مینگل شہید علی دوست میرخان محمد زرکزئی محمد حسین عنقاء میر عبدالعزیز کرد سمیت کئی دیگر سیاسی اکابربلوچستان کی آزادی کے کام آتے ہیں بالآخر برطانیہ بلوچستان کی تاریخی آئینی اور قانونی مطالبہ کو مدنظر رکھ کر بلوچستان کی آزادانہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے بلوچ وطن سے دستبردار ی کا اعلان کرتا ہے4اگست1947کو برطانوی حکومت کے نمائندہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن محمد علی جناح جواہر لعل نہرواور احمد یارخان کی موجودگی میں ایک معائدہ طے کیا جاتاہے کہ بلوچستان دیگرہندوستانی ریاستوں کی طرح نہیں بلکہ یہ ایک الگ اور آزاد ریاست ہے یہ اپنے داخلہ اور خارجی امور میں مکمل طور پر آزاد ہوگی اسی معائدہ کو لے کر خان آف قلات 11اگست کو بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرتاہے لیکن بعد ازان غیر فطری ریاست پاکستان سمیت اورلارڈماؤنٹ بیٹن درپردہ ان معائدات کی دھجیاں اڑاکر اپنے وعدے اور اصولوں سے انحراف کرکے پاکستان کی قبضہ کے لئے راستہ صاف کرتے ہوئے بلوچ قومی حکومت پر غیر فطری پاکستانی ریاست سے الحاق کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں جبکہ الحا ق کی ان شرائط کوبلوچ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتاہے الحاق کو بلوچ قوم کے لئے موت کا پروانہ قرار دیتے ہوئے اسے ایشیاء کے ڈیڑھ کروڑ بلوچوں کی موت کی دستاویز پر ستخط کرنے سے تعبیر کیا جاتاہے دونوں بلوچ ایوانوں کی جانب سے متفقہ قراردادیں منظور کرکے انضما م و الحاق کے تمام تر مجرمانہ شرائط کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کے منفی ہتکھنڈوں پر غم وغصہ کا اظہارکرتے ہوئے اس کی اس عمل کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے لیکن پاکستانی ریاست بلوچ قومی اداروں کے رائے اور بلوچ قوم کے منشاء کااحترام کرنے کے بجائے تمام تر انسانی و بین الاقوامی قوانین کو پائمال کرتے ہوئے بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرکے بلوچ وطن پر قبضہ جماکر اپنا تسلط قائم کرتی ہے ترجمان نے کہاکہ پاکستانی ریاست کے غیر آئینی اور غیر جمہوری قبضہ کے خلاف ایک دفعہ پھر آغا عبدالکریم خان آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد اور مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جبکہ اسی دن سے آج تک ریاست بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے پناہ وسائل اور طاقت کے استعمال کے ساتھ بلوچستان کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ان کی ہٹ دھرمی اور جارحیت سے آج خطے میں ایک جنگ کا ماحول پیدا ہواہے 1948سے لے کر اب تک تمام تر انسانی خوں بہنے کے زمہ دار بھی وہی ہے جو بلوچ وطن سے نکلنے کے بجائے جنگ کو طول دے رہے ہیں ترجمان نے کہاکہ موجودہ تحریک آزادی بلوچ کاز کے پیش رو مراحل کا فیصلہ کن تسلسل ہے بلوچ قوم اپنی آزادی کے اصولی اور سفارتی موقف پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کے بجائے جدوجہد کررہے ہیں اور بلوچ قوم مجموعی طور پر دنیا کو اپنی آزادی کے موقف اور فیصلہ سے آگاہ کر چکاہے اور بین الاقوامی سفارت کاری کے زریعہ دنیا کو ااس اہم انسانی اور قومی مسئلہ پر توجہ دلانے کے لئے بار ہا کوششیں کی ہے لیکن بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی ابال کو محسوس کرنے کے باوجود ریاست بلوچ عوام کو چند مراعات اور صوبائی خود مختیاری کے دھوکہ میں رکھنے پر بضد ہے حالانکہ بلوچستان نہ پہلے پاکستان کا حصہ تھا نہ کہ مستقبل میں اس کا حصہ رہیگایہ کوئی داخلی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاملہ ہے ترجمان نے کہاکہ عالمی ادارے امریکہ اور یورپی اقوام بلوچ مسئلہ سے آگاہ ہونے کے باوجوداپنے مفادات کے لئے ریاست کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں عالمی دنیا کی غفلت غیر زمہ داری اور خاموشی معاملات کو مزید گھمبیر کررہے ہیں کیونکہ بلوچ قومی مسئلہ کا حل بین الاقوامی ثالثی اور مداخلت سے جڑی ہوئی ہے اس کا دو طرفہ حل ناممکن ہے ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ و عالمی برادری کی مداخلت وقت کی اہم ضرورت ہے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے چیمپیئن اداروں کوزمینی حقائق اور حق و انصاف کا ساتھ دینا ہوگا خطے کے امن سلامتی اور استحکام کے لئے بلوچ قومی آزادی کے علاوہ غیرفطری راستہ ڈھونڈنے سے دنیا کے مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا

No comments:
Post a Comment